سفر یورپ 1924ء — Page 96
۹۶ ایک گاڑی کے اگلے سرے پر دوسرا آخری سرے پر اور تیسرا بیچوں بیچ اس طرح سے تنہائی اور جدائی ایسا نظارہ دکھاتی ہے کہ گویا کسی جنگل میں ہوں۔دوسرے لوگ اہل زبان نہیں۔اہل مذہب نہیں۔یہودی ہیں ایک عورت ایک مرد اور ایک بچہ ہے۔قلیوں نے رش کی وجہ سے سامان اس میں رکھ دیا تھا مجبور سامان کے ساتھ ساتھ بیٹھنا پڑا ہے۔گاڑی ساڑھے گیارہ بجے ریاق اسٹیشن پر کھڑی ہے۔پونے آٹھ بجے دمشق سے روانہ ہوئی تھی ۴ بجے بعد عصر انشاء اللہ بیروت پہنچے گی۔ریاق کوئی چھاؤنی معلوم ہوتی ہے۔دمشق سے۲ گھنٹہ کی راہ تک خشک اور ننگے پہاڑوں میں سے گاڑی گزرتی چلی آئی مگر ساتھ ساتھ جہاں سے گاڑی نکلتی آئی ہے نہایت ہی سبزہ زار باغات اور پھل دار درخت تھے۔مناظر بہت اچھے تھے مگر صرف ایک لمبی وادی کی شکل میں پانی کی گزرگاہوں کے کنارے کنارے۔باقی تمام پہاڑ ننگے اور بالکل خشک تھے اور ہیں۔انار ، سیب ، آلو بخارا، نارنگی، انگور، انجیر، شہتوت وغیرہ وغیرہ پھل کثرت سے پائے جاتے ہیں۔گیہوں کے کھلیان تیار ہو رہے ہیں۔چنے ابھی کھیتوں میں سبز ہیں۔مکی کے ٹھتے نکلے ہوئے ہیں۔فلسطین میں کثرت سے یہودیوں کی آبادیاں تھیں اور عربی لوگوں سے انہوں نے روپیہ دے کر اراضیات خرید لی تھیں اور اپنی نئی نئی آبادیاں بسا رہے تھے وہ نظارے ان علاقہ جات میں نظر نہیں آئے۔اس سٹیشن پر بھی لوگ حضرت اقدس کی زیارت کرتے اور حالات معلوم کرتے ہیں۔حضور کا ہندوستانی فاخرہ لباس میں ہونا اور فرسٹ کلاس میں تشریف رکھنا بھی لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف کھینچتا ہو گا مگر روحانی جذب بہت بڑھا ہوا ہے ورنہ اس طرح تو لوگ شاید بادشاہوں کو بھی دیکھنے نہ آتے ہوں گے۔بعض کے پاس اخبارات دمشق موجود ہیں ان میں پڑھ کر ان کو حالات معلوم ہوئے اور وہ شوق زیارت میں سٹیشن پر موجود ہیں۔بعض کو دوسروں سے بعض کو ہمارے اپنے ساتھیوں سے بعض کو حلبی مدیر صاحب سے بعض کو سرکاری پولیس کی وجہ سے اور بعض کو شاید سرکاری طور پر علم دیا گیا ہوگا۔بہر حال تبلیغ ہوتی ہی چلی جارہی ہے۔مُحَطَّةٌ عَين صوفر (اسٹیشن) سے گاڑی سوا دو بجے روانہ ہوئی۔بہت ہی شاندار۔