سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 91 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 91

۹۱ نہیں دے سکے اب اگر آپ اجازت دیں تو میں سوال کروں۔آخر حضرت اقدس کی اجازت سے سوال کیا اور حضور جواب دیتے رہے ہیں۔سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ انسان دنیا میں آ کر گناہ کرے گا۔بد کاری بھی کرے گا۔فساد بھی کرے گا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی صفات میں صفت ایک رحیم کی بھی ہے تو پھر انسان کو پیدا ہی کیوں کیا ؟ اگر پیدا کیا تو سزا کیوں دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔حضرت اقدس نے جواب دیا اور مفصل دیا اور سمجھا سمجھا کر دیا۔حتی کہ وہ لڑکا اور اس کے ساتھی سب خوش ہوئے اور کہہ دیا اچھل کر کہا ” میری تسلی ہو گئی اور میرا سینہ حضور کے اس جواب سے صاف ہو گیا ہے اور اس کے چہرے سے ایک بشاشت ایمان ٹپکتی ہے۔اس کے ساتھیوں نے بھی بعض سوالات کئے جس کے جوابات حضور نے دیئے اور وہ بھی تسلی پا کر خوشی خوشی حضور سے رخصت ہوئے۔ایڈریس دے گئے اور حضرت کا ایڈریس لے گئے ہیں۔رات کے 9 بجے کا وقت ہے بازار کے لوگوں کا شوق ابھی تک ختم نہیں ہوا۔ہجوم بازار میں برابر موجود ہے۔ملاقاتیوں کی آمد میں اب کمی ہو گئی ہے۔اب رقعات آرہے ہیں کہ خدا کے واسطے ہمیں ضرور موقع دیا جاوے اور نہیں تو صرف مصافحہ ہی سہی۔کوئی لکھتا ہے کہ آپ بلائیں یا نہ بلائیں ہم لوگ آپ کے خادم ہیں۔بعض طلبا کے خطوط آئے کہ خدا کے لئے ہمیں موقع دیں اور محروم نہ رکھیں۔بعض نے منت کی کہ آپ کے علوم کا دسواں حصہ ملا ہے مگر اس علم سے بھی ہم اپنے آپ کو غلاموں کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ہم ساتھ جانے کو تیار ہیں ہمیں خدام کے طور پر رکھیں وغیرہ وغیرہ۔ہما را عربی کا رسالہ جو پیغام بنام دمشق لکھا گیا تھا پولیس اُٹھا کر لی گئی ہے۔مطبع والا اجرت مانگتا ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا ہے کہ ہماری چیز پولیس اُٹھالے گئی قیمت بھی وہی ادا کرے یا ہم کو پولیس اور حکومت رسید دے کہ ہم نے رسالہ لے لیا ہے تا کہ ہم اپنی گورنمنٹ کے ذریعہ سے اس کا مطالبہ کرائیں اور اپنے حقوق واپس لے سکیں۔سلسلہ ملاقات ابھی جاری ہے بعض بزرگ ابھی آ رہے ہیں۔جن بزرگ نے صرف مصافحہ کی درخواست کی تھی وہ بھی پہنچ گئے ہیں اور واقع میں مخلص ہیں۔رفتی العارب۔الف با دونوں نے آج بھی مضامین شائع کئے ہیں اور الف بانے کل کی غلطی کی اصلاح بھی کر دی ہے۔اب جب کہ رات کے ساڑھے نو بجے ہیں حکم ملا ہے کہ علی الصبح یہاں سے براستہ ریل