سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 66 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 66

۶۶ پیغام بنام اہالیان دمشق کی طبع کا انتظام ہو گیا ہے اور ایک صاحب اپنے خط میں اس کی نقل بغرض طباعت لے رہے ہیں۔میں نے حضرت کے حضور عرض کیا تھا۔فرمایا کہ ابھی مضمون کو صاف کرنا ہے صاف کر کے امیر جماعت احمدیہ کے نام حضور خود بھیجیں گے۔۷/ اگست ۱۹۲۴ء کو ساڑھے نو بجے صبح کا وقت فرنچ گورنر نے حضرت کی ملاقات کی غرض سے دیا ہوا تھا اور ا ابجے کے بعد انگلش قفصل کی ملاقات کا وقت مقرر تھا۔۱۲ بج چکے ہیں مگر ابھی حضور تشریف نہیں لائے۔سید نا حضرت اقدس گورنر کی ملاقات اور برٹش فضل کی ملاقات سے فارغ ہو کر ۱۲ بجے کے بعد واپس آئے۔سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کے شاگرد جو کل آئے تھے آئے ہوئے تھے۔حضور نے ان سے تخلیہ میں باتیں کیں۔ابھی حضور کمرہ میں تھے کہ دو مولوی صاحب جو ہمیں بازار میں ملے تھے اور ہمیں پوچھا کہ کون ہو۔ہم نے بتایا ہم کون ہیں اور کس کے ساتھ ہیں تو ان کو شوق ملاقات ہوا وہ مکان پر آئے اور حضرت صاحب سے باتیں کرنے لگے۔ان کے ساتھ ساتھ بعض شرفا اور امرا بھی آگئے۔تھوڑی دیر کی گفتگو پر وہ بہت برانگیختہ ہوئے کہ ہم لوگ ایسے دعوئی اور ایسے خلاف اسلام عقائد سنے کو نہیں آئے ہم تو اس خیال سے آئے تھے کہ آپ لوگ مبشرین اسلام ہیں مگر آپ کچھ اور ہی عقائد سناتے ہیں۔اُٹھ کھڑے ہوئے اور چل دیئے مگر سیڑھیوں سے پھر لوٹ کر آئے اور بیٹھ گئے پھر سلسلہ کلام ایسا جاری ہوا کہ سوا تین بجے تک جاری رہا۔بحث ہوئی اور خوب ہوئی۔اعتراض کئے اور ایسے جواب پائے کہ بالکل ساکت ہو جاتے تھے۔لوگ بھی بکثرت اور بڑے بڑے علماء و امرا جمع ہو گئے انہوں نے سنا اور قبول کیا۔مولوی دونوں شیخ کے مشورہ کے منتظر رہتے مگر حماء کے آدمی اطراف دمشق کے لوگ اور اور لوگ فائدہ اُٹھا گئے۔ایک عربی زبان کا شاعر بھی آیا اس نے سیاست اور خلافت کے متعلق سوالات کئے اور ایسے جواب پائے کہ خوش ہو گیا۔اس نے حضرت مسیح موعود کے بعض الہامات بھی نوٹ کئے اور زبان کے لحاظ سے تنقید بھی کی۔ياتوك من كل فج عمیق پر بہت اڑا کہ نون کیوں بیان نہیں کیا شاید اخبار میں بھی اس کے متعلق کچھ لکھے۔الغرض آج خوب اور خوب ہی تبلیغ ہوئی اور لوگوں میں ایک شور مچ گیا۔سمجھدار لوگ ، پڑھے