سفر یورپ 1924ء — Page 62
۶۲ روپیہ صرف دمشق سے ۷۵ لاکھ سالا نہ جمع ہوتا ہے تو غربت کیسی ؟ اس پر انہوں نے کہا نہیں غلط ہے اتنا روپیہ مسلمانوں کے پاس کہاں ہے۔حضرت نے فرمایا ابھی ابھی ایک صاحب مجھ سے کہہ کر گئے ہیں اور میں خود ان کی اس بات سے تعجب اور حیرت میں تھا۔حضرت صاحب اس طرح سے باتیں کرتے تھے کہ خان صاحب نے اس شخص کے نام کا کارڈ نکال کر حضرت کے ہاتھ میں دے دیا جس شخص نے ایسا کہا تھا۔وہ کا ر ڈاب حضرت صاحب کو انہیں دکھانا پڑا کیونکہ ان کے سامنے خان صاحب نے پیش کیا تھا جس کو دیکھ کر وہ لوگ بالکل خاموش ہو گئے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر اجازت لیتے چلے گئے۔ان کے جانے کے بعد حضرت صاحب ناراض ہوئے اور خان صاحب سے فرمایا کہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سے رہا نہیں جا سکتا۔آپ کی ڈیوٹی تو راز کے رکھنے کی ہے مگر آپ را ز رکھ نہیں سکتے اور یہ تو امانت کے بھی خلاف ہے کہ کسی کا راز افشا کر دیا جائے۔اس شخص کا آپ نے راز افشا کیا اور ان کو فائدہ اٹھانے سے محروم کیا۔آپ کا رڈ نہ دکھاتے تو ان کے طرز سے معلوم ہوتا تھا کہ بہت کچھ کہنا چاہتے تھے۔مگر یہ پارٹی پہلی پارٹی کی دشمن ہے۔یہ گورنمنٹ کے خلاف ہیں اور وہ گورنمنٹ کے موید - یہ لوگ اس خیال سے خاموش ہو گئے اور چلے گئے ہیں کہ گورنمنٹ کے دوست بھی ان سے ملتے ہیں تو پھر ہمارا ان سے باتیں کرنا کیسے مفید ہو سکتا ہے مبادا کوئی نقصان پہنچے۔گورنمنٹ کی سختی سے یہ لوگ بہت ڈرتے ہیں اس وجہ سے اب باتیں کرتے کرتے کارڈ دیکھ کر خاموش ہو گئے اور پھر کوئی بات نہ کی۔شام کا وقت تھا اذان ہوئی۔حضرت نے نمازیں پڑھا ئیں اور پھر پیدل سیر کے لئے تشریف لے گئے - ایک گھنٹہ کے قریب پیدل سیر کی اور نہر کے کنارے جانب غرب دور تک چلے گئے حتی کہ بیروت کا ریلوے سٹیشن آ گیا۔وہاں سے بیروت کو جانے والی ٹرین کا وقت اور کرایہ وغیر ہ معلوم کیا اور پھر واپس تشریف لے آئے۔کھانا کھایا اور اپنے کمرہ میں آرام کو تشریف لے گئے اور اس طرح سے ۶ / تاریخ اگست کا دن بھی تمام ہوا۔سید ولی اللہ شاہ صاحب کے ایک شاگرد کل ہمیں بازار میں ملے وہ بھی حضرت صاحب کی ملاقات کو حاضر ہوئے اور نوٹ لے کر چلے گئے کہ اخبارات میں مضامین شائع کرائیں گے بلکہ یہ بھی بتا گئے کہ میں احمدی ہوں۔انہوں نے بعض علماء کے نام دیئے اور حضرت نے حکم دیا کہ حافظ صاحب اور شیخ صاحب عرفانی اور چوہدری فتح محمد خان