سفر یورپ 1924ء — Page 508
1۔جس میں نصف سبزی تھی چودہ آدمیوں کے واسطے دس روپے کا آیا۔شیخ محمود احمد صاحب بتاتے ہیں کہ انہوں نے بہت رعایت اور کفایت سے خریدا ہے ورنہ اگر کوئی نا واقف جا تا اور سبزی شامل ہوتی تو یہی سالن بیس روپے کو آتا۔شہری عورتوں کی بیجا آزادی : قاہرہ شہر کی عورتوں کا لباس سیاہ قسم کا ہے مگر شہری عورتوں میں سے اکثر حصہ جو بازاروں میں پھرتا نظر آتا ہے شرعی آزادی اور پردہ کی حد کو توڑ کر فیشن اور ترج کی طرف ترقی کرتا نظر آتا ہے۔چھاتی کا ایک حصہ انگریز لیڈیوں کی طرح ننگا رکھ کر اوپر سے ایک جالیدار نقاب لگایا ہوتا ہے جس سے نہ جسم ڈھک سکتا ہے نہ پردہ رہ سکتا ہے۔اس لباس کو بھی اگر پردہ کی نیت سے پہنا جائے تو پردہ کے لئے کافی ہو سکتا ہے مگر عموماً اس کو فیشن اور خوبصورتی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور پردہ کا چنداں خیال نہیں رکھا جاتا ایک نابینا طالبعلم : ازہر کا ایک طالب علم جس کی ایک نظم ۱۹۲۳ء کے جلسہ پر عربی میں پڑھی گئی تھی حاضر ہوا۔اس نے دو قصیدے اور ایڈریس پڑھے اور قرآن شریف سنایا۔یہ طالب علم نابینا ہے۔اور قوت لامسہ کے ذریعہ پڑھتا تھا۔یہ طالب علم اس قوت سے تصنیف بھی کرتا ہے مگر اس کی تصنیف نا بینا ماہر ان علم ہی پڑھ سکتے ہیں۔مصر کی حالت : ۳۰ / جولائی صبح کی مجلس میں حضور نے فرمایا۔مصر کی حالت تو اس امر کی مقتضی ہے کہ یہاں کم از کم دو ماہ متواتر قیام کیا جائے کیونکہ جس تباہ کن تمدن سے میں اسلام کو بچانا چاہتا ہوں اس کا زہر تو مصری مسلمانوں میں سرایت کر چکا ہے اور مصری مسلمان اس یورپ کے تمدن کے سامنے سرتسلیم خم کئے جارہے ہیں۔ہندوستان اور انگلستان کا تعلق : ہندوستان میں سیاسی تغیرات کا ذکر ہوتا رہا حضرت صاحب نے فرمایا۔میرا خیال ہے کہ ادھر ہندوستان میں احمدیت ترقی کرے گی اور اُدھر یورپ میں ترقی پکڑے گی۔اس صورت میں ہندوستان اور انگلستان کا آپس میں ایک تعلق پیدا ہو جائے گا۔حضرت کی عربی میں تقریر : کھانے کے بعد حضور کے پاس ایک احمدی مصری دوست آئے