سفر یورپ 1924ء — Page 505
پورٹ سعید کا ذکر : پورٹ سعید میں موسم زیادہ گرم نہیں۔رات کو مکان کے اندر کے کمروں میں سوئے رہے۔بازار اور سڑکیں نہایت با قاعدہ اور صاف ہیں۔دکانیں بڑی خوبصورت اور سلیقہ سے سجائی ہوئی۔عمارات بہت ہی شاندار اور خوبصورت وضع کی صاف ستھری۔موٹر اور فٹن کا عام رواج ہے۔ٹرام بھی خچروں سے اندرونی بازاروں میں چلتے ہیں۔بار روم ( جہاں لوگ کثرت سے بیٹھ رہتے ہیں ) بکثرت ہیں۔چاء اور شراب وغیرہ کی دکانیں بہت گرم رہتی ہیں۔عورتیں سیاہ لباس میں ایک حد تک پردہ کئے ہوئے بازاروں میں چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔ہوٹل : جس ہوٹل میں ہم ٹھہرے ہیں۔فی کس رات رہنے کا خرچ ۵ شلنگ ہے۔میں نے رات حضرت صاحب سے عرض کیا کہ حضور اگر اجازت ہو تو سامان بھی اسٹیشن پر پہنچا دیا جائے مگر حضور نے پسند نہ فرمایا اور فرمایا وہاں سامان کی حفاظت کا انتظام نہ ہو سکے گا کیونکہ یہ علاقہ ہمارے ملک کی طرح نہیں ہے۔ابھی ابھی اس ہوٹل سے حضرت میاں شریف احمد صاحب کا ایک ہوا جس میں ۱۶۵ کے نوٹ تھے گم ہو گیا۔ایک شخص دروازہ پر بیٹھا تھا اور حضرت میاں صاحب نے بٹوا ایک جگہ سے اُٹھا کر دوسری جگہ رکھا۔غالباً اس نے تاڑ لیا۔حضرت میاں صاحب حضرت صاحب کے کمرہ میں تشریف لائے واپس لوٹ کر گئے تو وہ بٹوا ندارد۔جس کی تحقیق کی جارہی ہے اور تلاش ہو رہی ہے۔پورٹ سعید : پورٹ سعید کے متعلق جو جو ضروری کام تھے سرانجام دینے کے بعد ۲۹ جولائی کو ساڑھے بارہ بجے کی ایکسپریس ٹرین سے حضرت خلیفہ امیج مع خدام قاہرہ تشریف لے گئے۔حضور کا ٹکٹ فرسٹ کلاس کا تھا اور حضور کے ساتھ پرائیویٹ سیکرٹری ذوالفقار علی خاں صاحب کا بھی اسی درجہ کا۔باقی تمام خدام نے مع حضرت میاں شریف احمد صاحب تھرڈ کلاس میں اکٹھے بیٹھ کر سفر کیا۔اس جگہ ہر قسم کے لوگ موجود ہیں۔ہر ملک اور ہر مذہب کے آدمی ملتے ہیں مگر عموماً چور، ٹھگ ، دھوکہ باز اور ڈاکو زیادہ ہیں۔مسافروں کے کپڑے اتارنے تک سے دریغ نہیں کرتے۔تاجر بلکہ پھیری والے بھی جہاز میں زور سے مال بیچنے کی کوشش کرتے ہیں اور خواہ مخواہ گلے پڑتے ہیں۔