سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 503 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 503

تیار ر ہے گا۔ایسے موقع پر وہ کہتا ہے مجھے گرنے دو کیونکہ اس سے مجھے بڑھنے کا بھی موقع ملے گا۔پھر صحابہ کی ایسی مثالیں بیان کیں۔ان کے کارنامے اور فتوحات کا بھی ذکر کیا اور بعض جن کو سزائیں دی گئیں تھیں ان کا بھی ذکر فرمایا۔کوہ طور : ۲۷ جولائی کو عصر کی نماز کے بعد وہ سلسلہ کو ہی سامنے آیا جس میں حضرت موسی کا طور سینا ہے اور جبل موسیٰ کے نام سے موسوم ہے۔حضور نے اس سلسلہ کو ہی کے بعض حصص کا فوٹو لیا۔نہر سویز کا نظارہ: ۲۸ / جولائی کو ہم نہر سویز میں داخل ہوئے۔کینال کے دفاتر کا منظر اور سمندر میں سے شہر کا نظارہ اور آب رسانی کے چاہات نہایت ہی خوشکن اور فرحت افزاء مقام ہیں۔ہمارا جہاز دفاتر کینال کے ساتھ ساتھ چلا جا رہا تھا۔ادھر جہاز اور اُدھر دفاتر کی خوبصورت عمارت کا بہت ہی اچھا نظارہ تھا۔اکثر حصہ مسافروں کا اس نظارہ کی سیر کر رہا تھا۔تھوڑی دور آگے چل کر نہر سویز آ گئی جو بمشکل دو سوفٹ چوڑی ہو گی۔گہرائی کا پتہ نہیں مگر اند از ۳۰ فٹ ہوگی۔اٹالین ڈاکٹر کی نااُمیدی : انالین ڈاکٹر بچارہ بڑے شوق اور امید سے آیا کرتا تھا اور یقین رکھتا تھا کہ حضرت صاحب اس کی سوسائٹی میں شامل ہو جائیں گے۔مگر اب بالکل مایوس ہو گیا اور کہنے لگا آپ لوگ بڑے سنجیدہ اور متین ہیں میں آپ کو اپنے ساتھ شامل نہیں کر سکتا۔جنگ کے بعد لوگوں نے غم اور حزن کو دور کرنے کے واسطے کئی قسم کی کمیٹیاں بنائی ہوئی ہیں۔ان میں سے ایک اکٹی نام سے مشہور ہے۔یہ ڈاکٹر اس کا پریذیڈنٹ ہے جس میں خوش رہنے کی تجاویز سوچتے ہیں۔ایک دوسرے کو ملتے وقت ایک ہاتھ اس طرح اُٹھاتے ہیں جس طرح سے سامنے آتی گاڑی کو روکنے کے لئے کھڑا کرتا ہے اور کہتے ہیں کہ سب سے بڑی طاقت اسی ہاتھ میں ہے۔چلتی گاڑی کھڑی ہو جاتی ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بھی ہاتھ کو کھڑا کر کے جنگ جاری رکھی تھی اور جب کمزور ہو کر گرنے لگا تو شکست ہونی شروع ہو گئی جس پر دو آدمیوں نے ہاتھ کو تھاما۔تب جا کر ہاتھ کھڑا ہوا اور لڑائی ختم ہوئی وغیرہ وغیرہ۔اٹالین ڈا کٹر کوتحریر : حضرت صاحب نے اس کی درخواست پر اسے ایک تحریر لکھ کر دی جس کا