سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 486 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 486

۴۸۶ خادم محمد علی امیر جماعت احمدیہ پشاور دستخط محمد عالم محمد عبد الحق آف گولیکی ، عبدالمجید ، غلام محمد اختر ، غلام رسول، عبدالحق ورما، عبد الحمید، محمد اعظم محمد مرغوب اللہ ، قاضی محمد یوسف، ڈاکٹر فتح الدین، ودرما، عبدالحمید، محمدا ، ، یوسف علی، رجب علی ، ظفر الحق ، مرزا عبد الرحیم ، ڈاکٹر محمد حسین شاہ علی حسن رضوی ، شیخ رحمت اللہ ، علی شیخ اللہ بخش، دانشمند، محمد شاہ ، احمد جان، محمد سلیم ، عبد الحکیم محمد سعید آف میانی، فضل الدین ، الطاف علی ، نذر محمد خان، علی احمد شاہ، محمد شفیع ، ڈاکٹر محمد دین و جملہ جماعت و ممبران دیگر بوساطت حضرت مفتی محمد صادق صاحب احمدی ڈی۔ڈی بمقام بمبئی۔بتاریخ ۱۸/ نومبر ۱۹۲۴ء- - آج کے ٹائمیز آف انڈیا مورنگ (Morning) پیپر نے حضرت اقدس کے متعلق ایک کالم سے زیادہ کا دلچسپ مضمون شائع کیا ہے۔اس کی کاپی الگ ارسال کرتا ہوں انشاء اللہ تعالی۔پروگرام وہی ٹھیک ہے جو میں پہلے خط میں جہاز سے لکھ چکا ہوں اگر کوئی چھوٹی موٹی تبدیلی ہوئی بھی تو اس کا اثر قادیان کی رسیدگی پر نہیں ہو گا۔مکرمی ایڈیٹر صاحب الفضل کو اگر یہ خط دے دیا جاوے تو شاید ان کے کسی کام آ سکے اور کچھ تازہ حالات وہ بیرونی جماعتوں تک حضور کی تشریف آوری سے پہلے پہلے پہنچاسکیں۔حضور کی یہ تقریر میں نے ساتھ ساتھ نوٹ کی ہے۔جلدی میں اچھا نہیں لکھا گیا کوشش کر کے ٹھیک کر لیں۔حضرت اقدس نے کل جو تقریر چائے کے بعد فرمائی تھی اس کا خلاصہ درخلاصہ یہ ہے کہ میرے اس سفر یورپ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ تمام دنیا میں بدامنی اور بے چینی پھیلی ہوئی ہے اور دنیا اس بے چینی کے دور کرنے اور امن کے بحال کرنے میں ہندوستان کی محتاج ہے۔یورپ کے پاس بے شک مادی ترقی کے سامان موجود ہیں اور سونے چاندی کے پہاڑ ان کے خزانوں میں جمع ہیں مگر وہ چیز جو سونے چاندی کے سکوں سے زیادہ قیمتی اور ہمیشہ کام آنے والی ہے کیا بلحاظ اس دنیا کی ضرورتوں کے اور کیا بلحاظ آئندہ زندگی کی ضرورتوں کے اس سے وہ لوگ کلیتہ محروم ہیں اور محتاج ہیں کہ ہندوستان ان کی مدد کے لئے ہاتھ بڑھائے اور وہ چیز وہ کلام الہی ہے جو خدا نے ہند میں اپنے مقدس بندے اور برگزیدہ انسان حضرت مسیح موعوڈ پر نازل فرما کر دنیا کی را ہبری اور راہنمائی کے سامان مہیا کئے ہیں۔ان کے زر و جواہر ان کے مال و منال ان کے خزانے