سفر یورپ 1924ء — Page 475
۴۷۵ کے پل ادا کر دیئے گئے ہیں اور ہر قسم کے حسابات صاف کئے جاچکے ہیں۔۱۸/ نومبر ۱۹۲۴ء سمندر کی آخری گھڑیاں ! سید نا حضرت محمود فضل عمر فخر رسل اولو العزم خلیفہ امسیح والمہدی نے خود تشریف لا کر نماز صبح ادا کرائی اور دوسری رکعت کے تشہد میں بہت ہی لمبی دعائیں کیں حتی کہ جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو سورج نکلا ہوا تھا۔دھوپ جہاز کے جھرکوں میں سے صاف اور کھلی پڑ رہی تھی۔نماز سے فارغ ہو کر حضور چند منٹ بیٹھے اور پھر تشریف لے گئے۔ایک دوست کے سوال پر فرمایا کہ جہاز بے چارے نے اب کیا تنگ کرنا ہے۔جتنا زیادہ تنگ کرے گا اتنا اتنا ہی قریب ہوتا جائے گا اور آخر ہمارے اُتر جانے کا اسے بھی افسوس ہوگا کیونکہ خدا جانے اس کو اس قسم کے مسافر کبھی میتر بھی آئیں گے یا نہیں۔رخت سفر برائے قادیان بندھ رہا ہے۔نظریں کناروں کی طرف دوڑتی ہیں مگر ابھی سوائے افق کے کچھ نظر آتا نہیں۔بعض دوست اوپر کی منزل سے کچھ دیکھنے کی کوشش میں ہیں۔ساڑھے آٹھ بجے ہیں۔حضور دوربین لے کر اوپر تشریف لے گئے ہیں۔دوست ادھر کبھی اُدھر دیکھتے ہیں اور بے تابی کا ایک عالم ہر ایک کے چہرے سے پڑھا جاسکتا ہے۔بمبئی کی چھوٹی کشتیاں مچھلی پکڑنے کی آدھ گھنٹہ سے نظر آ رہی ہیں۔ساحل سمندر کے پہاڑ بھی نظر آنے شروع ہو گئے ہیں اور دل اب سے اُچھلنے لگے ہیں کہ ان کی دھڑکن نمایاں محسوس ہوتی ہے۔چہرے خوشی سے ٹمٹمار ہے ہیں کیونکہ مدتوں کے بچھروں کو ملنے کی اُمید لگ رہی ہے۔اللہ کریم خیر و برکت کا میل کرے اور دائمی فضل و رحمت اس ملاپ کا نتیجہ ہو آمین۔و بج چکے ہیں اور اب تو بمبئی کے مکانات تک نظر آتے ہیں۔ہمارے دوست تو شاید جہاز کو بھی دیکھتے ہوں گے مگر وہ ہمیں نظر نہیں آتے۔ہر شخص آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔حضور نے صبح فرمایا تھا کہ ایک دعا جہاز کے ٹھہرنے کے وقت اور دوسری اُترتے ہوئے دو دعائیں کی جائیں گی۔جہاز والے فوٹو کی درخواست کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ریسپشن (Reception) پارٹی کے آجانے کے بعد سارے گروپ کی تصویر لیں گے۔