سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 467 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 467

۴۶۷ ( گوشت اب کے عدن سے اور پورٹ سعید سے ذبیحہ جہاز والوں نے لیا تھا ) مگر وہ گوشت خراب تھا۔حضور کی طبیعت پہلے ہی لقمہ سے خراب ہو گئی۔حضور جلدی واپس آگئے اور کمرے میں لیٹ کر سو گئے اور چار بجے کے بعد نمازوں کے لئے تشریف لائے۔نماز ظہر پڑھا چکنے کے بعد دو چار منٹ کے لئے حضور بیٹھے رہے اور کنپٹیوں اور پیشانی کو ہاتھ سے دبایا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ سر میں درد کی شکایت ہے۔حضور نے فرمایا تکبیر کہہ دو۔ہم سمجھے کہ شاید تکلیف کی وجہ سے بیٹھ کر ہی نماز پڑھائیں گے مگر جب تکبیر ہوئی تو حضور کھڑے ہوئے اور عصر کی نماز بہت لمبی کر کے پڑھائی جس میں دعاؤں کا خوب موقع ملا۔سجدات بھی لمبے تھے حتی کہ حافظ صاحب نے نماز کے بعد عرض کیا کہ حضور ایک رکعت میں سجدہ بجائے دو کے صرف ایک ہوا ہے۔( سجدوں کی طوالت کی وجہ سے پہلے سجدہ کا خیال بھول گیا ) مگر سجدات ٹھیک ہوئے تھے اس وجہ سے نماز ختم ہی سمجھی گئی۔( دو تین دن پہلے عصر کی نماز بجائے دو رکعت کے تین رکعت پڑھائی گئی تھی۔سلام کے بعد عرض کرنے پر حضور نے دوسجدات سہو مع مقتدیوں کے اور کر دئیے )۔نمازوں کے بعد شام کے قریب تک حضور بیٹھے رہے مگر ڈاکٹر صاحب نے کوشش کر کے اُٹھوا دیا تا کہ حضور کچھ کھلی ہوا میں ٹہلیں اور پھر میں چنانچہ حضور جب سے گئے ہوئے اب تک واپس نہیں تشریف لائے۔لوگوں سے باتیں کرتے رہے اور پھر کھانے پر تشریف لے گئے۔( حضور آ گئے ہیں) حضور کھانے کے کمرے سے اُٹھ کر آئے ہیں۔فرمایا آج تو حد ہی ہوگئی۔ہمارے کھانے کے کمرے میں مختلف قسم کے سوانگ بھر کر لوگ آئے ان کو شناخت نہ کیا گیا مگر بعد کی کرتوتوں۔ان کا راز کھل گیا۔کوئی ڈاکو بن کر آن گھسے اور عورتوں کی میز پر چلے گئے۔ان کو ڈرایا دھمکایا وہ چینیں مارنے لگیں۔کوئی یہودی بن کر آیا اور پروں کے پنکھے اور پر وغیرہ فروخت کرتا پھرا۔کوئی عرب بن گیا۔ایک عورت خادمہ کو سیلر بنا دیا اور بعض مذاق بھی کئے۔ایک عورت کے سامنے کھانا پیش کیا جب وہ چھری سے کاٹنے لگی تو وہ بلی بن کر اُچھلا اور پلیٹ سے باہر جا پڑا۔ایک مسافر کے سر پر پٹھکانا سا لٹکا دیا اس میں رنگ دار پانی بھرا تھا۔جب وہ کرسی پر بیٹھا تو پانی گر کر اس کے کپڑے بھی تر ہو گئے۔الغرض آج تو کھانے کے کمرے میں عجیب قسم کا شور و پکار اور قہقہے اور ہنسی مذاق ہی