سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 465 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 465

۴۶۵ الاخوان المكرمين تھوڑی دیر بعد حضور تشریف لائے اور ایک تارلکھ کر خان صاحب کو دیا کہ قادیان بھیج دیں۔تار میں حضرت اماں جان۔اُم امتہ القیوم اور دونوں گھروں کو بچہ کی پیدائش پر مبارک باد دیا ہوا تھا اور لکھا تھا کہ بچہ قبل از وقت پیدا ہوا ہے لہذا بچے اور اس کی والدہ کا اندیشہ ہے اور دعا کی تھی کہ اللہ کریم دونوں کو صحیح اور تندرست رکھے آمین۔مفتی صاحب کے تار میں بچہ کی پیدائش کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے پانیوں میں حضور کے داخلہ پر تمام جماعت احمدیہ کی طرف سے بھی مبارک بادعرض کیا گیا تھا۔خطبہ جمعہ حضور نے مختصر آ پڑھا اور ہمرکاب ساتھیوں کو بہت ہی قیمتی نصائح فرما ئیں اور فرمایا کہ اختلاف طبائع کی وجہ سے باہم اختلافات ہو جایا کرتے ہیں ان کو بالکل فراموش کر دینا چاہئے اور اگر کسی کی ذات کے متعلق کسی سے کوئی امر تکلیف دہ ظاہر ہوا ہو تو اس سے معافی لے لینی چاہئے اور اگر عام طور پر کوئی معاملہ ہوا ہوتو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا چاہئے اور قبل اس کے کہ ارضِ ہند پر پہنچیں طبائع کو صاف کر لینا چاہئے۔کوئی معاملہ ضد اور کینہ و بغض کے رنگ میں ساتھ نہ لے جانا چاہئے اور نہ ہی اس کو جا کر پھیلانے کی کوشش کرنا چاہئے وغیرہ وغیرہ۔نیز دوسرے خطبہ میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں وہم وگمان سے بھی بڑھ کر کامیابیاں اس سفر میں عطا فرمائی ہیں ان کا شکریہ ادا کرنا اور ان کو یا درکھنا چاہئے تا کہ نعمت زیادہ ہو۔خطبه مکرم شیخ صاحب عرفانی نے مفصل نوٹ کیا ہے ) نمازیں دونوں جمع کر کے پڑھائیں اور تھوڑی دیر تک بیٹھے رہے اور پھر انعامات الہیہ کا جو اس سفر میں عطا ہوئے ہیں ذکر فرماتے رہے اور شکر یہ بجالاتے رہے اور نہایت پیارے لہجہ اور محبت بھری آواز سے رسول کریم علیہ کی وہ حدیث سنائی جس میں آنحضرت نے اس بندے کی خواہش کا ذکر کیا ہے جو وہ انعامات الہی کے پانے کے لئے رکھتا ہے جس کو آخری وقت میں دوزخ سے نکال کر تدریجاً بہشت کی طرف لے جایا جائے گا اور وہ ایک ایک نعمت کو دیکھ کر سوال کرتا جائے گا اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا جائے گا کہ اچھا اب اور کچھ نہ مانگوں گا۔