سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 448 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 448

۴۴۸ دوسرے سے بغلگیر تھے۔کثرت سے انگریز مرد اور عورتیں کھڑے اس نظارہ کو دیکھ رہے تھے اور وہ اب اجنبی نہ تھے کیونکہ دونوں بھائیوں سے قریباً تمام مسافروں کا تعارف ہو چکا تھا اور اپنے اخلاق سے سب کے دل میں ہر دل عزیزی پیدا کر کے یہ بزرگوار لوگوں کے دلوں میں گھر کر چکے تھے۔اس نظارہ سے میں نے دیکھا کہ لوگوں کے دلوں پر گہرا اثر ہوا اور بعض پر رقت طاری ہو گئی۔لمبے معانقہ کے بعد مصافحہ کے لئے ہاتھ دونوں طرف سے بڑھے اور سیدنا حضرت محمود نے حضرت شریف کو الوداع کر کے اللہ کے حوالے کیا۔ان لوگوں کے ضبط کو کون سمجھ سکتا سوائے خدائے علیم کے جو دلوں کے حالات کا واقف ہے۔ہم لوگوں نے بھی اپنے اپنے طور پر دعائیں کیں مگر حضرت نے تمام دوستوں سمیت جو دعا حضرت میاں صاحب کو الوداع کہنے سے پہلے کی وہ نظارہ تمام جہاز کے لئے دلکش ، سبق آموز اور دردانگیز تھا۔دعا لمبی تھی اور چونکہ دلوں سے نکلتی تھی اس وجہ سے مؤثر بھی بے حد تھی اور آس پاس کے لوگوں کے دلوں پر اس کا ایسا اثر تھا کہ میں جانتا ہوں کہ وہ سب ہی افسردہ اور غمزدہ نظر آتے تھے۔دوفو ٹو ڈاکٹر صاحب نے اس منظر کے لئے جو غالبا قا دیان پہنچ کر تیار ہوں گے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا لخت جگر جس کو خدا نے قاضی اور بادشاہ کا نام دیا حضرت مرزا شریف احمد جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے وعدے ہیں آج کچھ عرصہ کے لئے ہم سے جدا ہوتا ہے۔دل اس جُدائی سے دردمند ہیں اور آنکھیں آنسو بہاتی ہیں مگر ہم جانتے ہیں کہ یہ چند روزہ جدائی بہت بڑے دینی مفاد کا موجب ہوگی اور انشاء اللہ تعالیٰ مصر۔شام۔فلسطین اور عراق کے علاقہ جات حضور کے ہاتھ پر مفتوح ہوں گے اور بہت بڑے بڑے دینی مفاد اور روحانی برکات کا حضور کے وجود کے ساتھ نزول ہو گا لہذا دلوں کو سمجھا بجھا کر دعائیں کرتے ہوئے اللہ کے حوالے کرتے ہیں۔جاؤ حضور اللہ آپ کا حافظ و ناصر ہو۔حامی و مددگار ہو، راہبر ہو ، را ہنما ہو۔آمین ثم آمین۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے بھی ہم نے حضرت ابراہیم والی دعائیں کیں۔ربنا انی اسكنتُ من ذريتي بوادٍ غیر ذی زرع عند بيتك المحرم۔۔۔۔۔آمین ثم آمین۔