سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 445 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 445

ہدایات کر رہا ہوں۔۴۴۵ (۳) قادیان کا ایک تار حضرت کے گھر کی بیماری کے متعلق ہے۔دوسرا حضرت مفتی صاحب کے بمبئی آنے کے متعلق ہے اور ایک تار نواب عبدالرحیم خان صاحب خالد کا لنڈن سے بعض پرائیویٹ معاملات کے متعلق ہے۔شیخ محمود احمد صاحب کا تار پڑھ کر حضور نے فرمایا کہ میاں صاحب کو روک لیا جاوے وہ یہاں نہ اتریں بلکہ سویز ہی چل کر اُتریں۔ٹکٹ دوسرا لے لیا جاوے چنا نچہ حکم کی تعمیل کی گئی اور اس طرح سے ایک دن رات اور حضرت میاں صاحب کی صحبت کا ہمیں موقع مل گیا۔حضور نے ڈاک میں سے کچھ حصہ ساتھ لے لیا اور پورٹ سعید اُترے۔حکم دیا کہ وضو کر لیا جاوے تا کہ نماز شہر کی کسی بیت الذکر میں ادا کر سکیں۔اول حضور نے بعض خطوط جولنڈن کو لکھے تھے۔(لنڈن کے بعض نومسلموں سے حضور نے سلسلہ خط و کتابت جاری رکھنے کا حکم دیا۔بعض کو خو دلکھا اور بعض کو دوسرے دوستوں سے خطوط لکھوائے ) وہ پوسٹ کرنے کی غرض سے ڈاک خانہ کو تشریف لے گئے۔راستہ میں ایک آدمی سے ڈاک خانہ کا راستہ پوچھ بیٹھے جو گلے کا ہار ہی بن گیا اور گائیڈ ہوکر ساتھ ہولیا - پوسٹ آفس پہنچتے پہنچتے حضور نے قادیان کی ڈاک سے ایک خط پڑھ کر فر مایا ” بھلا ان لوگوں کا کون مقابلہ کر سکتا ہے۔بات یہ تھی کہ خط میں خواجہ کمال الدین صاحب کے کسی اعلان کا ذکر تھا جو اس نے اپنے مضمون متعلقہ کا نفرنس کی کامیابی کے متعلق شائع کیا ہے اور لکھا ہے کہ گویا اس کے مضمون کے بعد پریذیڈنٹ نے اعلان کیا کہ بس ثابت ہو گیا کہ زندہ مذہب اسلام ہے خواجہ صاحب کا مضمون جو تھا وہ خود بھی جانتے ہیں۔وہ چونکہ ( دینِ حق ) کی طرف منسوب کیا گیا تھا اس وجہ سے اس کے متعلق ہم نے کوئی بات نہ لکھی تھی ورنہ اس پر ایسے ایسے ریمارکس لوگوں نے کئے کہ اگر خواجہ صاحب خود ہوتے تو سن کر نادم ہوتے۔اسی وجہ سے تو وہ خود پڑھنے نہ آئے تھے۔جور بیمارکس پریذیڈنٹ نے یا دوسرے اخبار نے سید نا حضرت خلیفۃ المسیح کے مضمون کے متعلق کئے ان کو لے کر اپنے مضمون کی طرف منسوب کر کے لوگوں کے جیب خالی کرانے کا اچھا ڈھنگ نکالا گیا ہے۔الامان الحفیظ - حضور نے فوراً ایک خط اس کی حقیقت کو کھولنے کیلئے لنڈن مولوی