سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 34 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 34

۳۴ اس بیان میں فرماتے فرماتے فرمایا کہ انگریزی لباس سے مجھے سخت چڑ ہے چنانچہ مبلغوں کو یورپ جاتے وقت میں نے ہدایت کی تھی کہ ہیٹ اور پتلون ہرگز نہ پہنیں بلکہ یہاں تک فرمایا کہ اگر ہمارے بچوں میں سے کوئی پتلون اور ہیٹ کا استعمال کرے تو اس کو بید کی سزا دینی چاہیئے۔فرمایا جس قوم کے پاس لباس بھی اپنا نہیں اور دوسرے کے لباس کو اپنے سے اچھا سمجھ کر اسے اختیار کر لینا چاہتی ہے اس قوم نے اس کا مقابلہ کیا کرنا ہے؟ فرمایا۔آنحضرت نے آنکھ کھلتے ہی عربوں کی اس اصل کو تاڑ لیا تھا اور حضور نے دیکھا کہ اب یہ قوم خواب غفلت سے جاگی ہے۔ترقی کا خیال اس کے دل میں موجزن ہے۔مبادا یہ رومیوں یا نصرانیوں کی ترقیات کے سامنے سرنگوں ہو کر انہی کی طرز کو پسند کر لیں۔اس کے علاج کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا خـالـفـوا اليهود و النصارى۔۔۔۔۔الخ اور من تشبه بقوم فهو منهم اور حقیقت یہی ہے کہ جو کسی قوم کے لباس اور تمدن کو قبول کر لیتا ہے وہ دل سے انہی میں سے ہوتا ہے۔دل اس کا ان کی عظمت سے اور ترقی کا قائل ہو چکا ہوتا ہے گو قو لا نہیں مگر فعلاً اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اس قوم کا لباس یا وہ بات اس کے لباس وغیرہ سے بہتر ہے اور اس طرح اپنی شکست کا اقرار کرتا ہے۔الغرض حضور نے اس مضمون پر بہت ہی لمبی اور بسیط تقریر فرمائی۔حضور جب کمرے سے تشریف لائے تھے چہرہ اُتر ا ہوا تھا مگر اس تقریر کے دوران میں حضور کا چہرہ تمتا اٹھا اور آواز میں زور اور شوکت تھی اور غیرت اور حمیت کا ایک دریا تھا جو موجزن تھا۔عرفانی صاحب جو حاضر مجلس تھے نوٹ کرنے لگے مگر حضور نے فرمایا یہ بات لکھنے کی نہیں۔(اطلاع کے طور پر عرض ہے کہ اگر کوئی حصہ اس خط کا اخبار میں جانا ہو تو یہ حصہ ہرگز ہرگز نہ جاوے یوں حضور کی ڈائری کے طور پر نوٹ کرایا ہے خلاصہ در خلاصہ وہ بھی اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں ) شام سے ذرا پہلے جب کہ خدام کے حلقہ میں حضور رونق افروز تھے اٹالین آفیسران جہاز ، مسافر اور قلی وغیرہ ادھر ادھر چہل پہل میں مصروف تھے اکثروں کی نظریں اسی حلقہ شاہی کی طرف تھیں۔حضور نے قہوہ منگانے کا حکم دیا جو جلدی آ گیا۔حضور نے خدام سمیت کھلی مجلس میں فرش جہاز پر قہوہ نوش فرمایا اور غلاموں میں سے ایک ایک کو دیا۔انالین ڈاکٹر ا و پر کھڑا دوسروں کو بتا تا تھا کہ "Jesus and his twelve hawaris" ڈاکٹر نے فوٹو لینے کی خواہش کی مگر کہا گیا کہ پورے حلقہ