سفر یورپ 1924ء — Page 420
۴۲۰ جواب: ہماری جائدادوں کا چھین لینا۔بیا ہے ہوئے مردوں کی بیویوں کو ان سے جدا کر لینا۔عام قبرستانوں میں ہمارے جنازے دفن نہ ہونے دینا۔دفن شدہ جنازوں کو اکھیڑ کر ان کی ہتک کرنا۔پانی اور دیگر ضروریات زندگی تک کی متعلق بائیکاٹ کرنا وغیرہ وغیرہ طریقوں سے دکھ پہنچاتے ہیں۔سوال کیا ہندوستان میں بھی آپ کے آدمیوں کو جان سے مار دیا جاتا ہے؟ جواب: ہندوستان میں چونکہ پرٹش گورنمنٹ ایک مستقل اور مضبوط گورنمنٹ ہے اس کی وجہ سے ہمارے دشمنوں کو ہمیں ایسی تکالیف پہنچانے کا موقع نہیں ملتا جیسی کہ افغانستان میں دی گئی ہے۔:سوال سلسلہ احمدیہ کے بانی نے کب دعویٰ کیا تھا ؟ جواب : بانی سلسلہ احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۸۸۹ء میں دعویٰ کیا اور آپ کا وصال ۱۹۰۸ء میں ہو گیا۔آپ قادیان میں پیدا ہوئے اور وہی سلسلہ کا مرکز ہے گو اس کی شاخیں تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں۔سوال: کیا آپ کے پیرو ہندوستان کے ایک ہی حصہ میں رہتے ہیں؟ جواب : نہیں ہندوستان کے مختلف حصوں میں موجود ہیں۔سوال: کیا آپ کا مذہب کوئی نیا مذ ہب ہے؟ جواب : ہمارا مذہب نیا نہیں البتہ ہمیں عام مسلمانوں کی تفاسیر اور قرآن کریم کے تراجم اور ان کی بعض عملی واخلاقی تعالیم سے اختلاف ہے۔حضرت احمد نے صلح اور امن کی پالیسی پر خصوصیت سے زور دیا اور دین کے لئے جنگ کرنے کو حرام قرار دیا۔دوسرے مسلمانوں کے نزدیک کافروں کا قتل جائز بلکہ کارثواب ہے مگر ہمارے نزدیک ایسا کرنا اسلام کی رُو سے ناجائز اور گناہ ہے وغیرہ۔سوال کیا پیرس کی (البیت ) کی بنیا د آپ نے ہی رکھی ہے؟ جواب نہیں ہم نے لنڈن کی (البیت) کی بنیاد رکھی تھی اور اس موقع پر جاپانی سفیر اور ان کے علاوہ نصف درجن دوسری حکومتوں کے قائمقام موجود تھے اور کئی سو انگریز مرد وعورتوں کا