سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 419 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 419

۴۱۹ ہو جاتے اور پہلے سے مختلف نقطہ نگاہ سے ہمیں دیکھتے تھے۔پہلے اجنبیت اور تماشا کا رنگ تھا مگر بعد میں تعارف اور عظمت پیدا ہو چکی تھی۔اسی طرح سے میلان کے سٹیشن پر کے آخری دو گھنٹے گزرے۔ایڈیٹر صاحب نے حضور سے ذیل کے سوالات کئے جن کے جوابات حضور نے دیئے۔سوال ایڈیٹر آپ کے سلسلہ کا مقصد اور غرض کیا ہے؟ جواب از حضرت اقدس: اہل غرض تو تاجر یا سوسائیٹیوں والے ہوتے ہیں ہم تو مذہبی آدمی ہیں اور مذہب کی غرض محض اصلاح بنی نوع انسان ہوتی ہے جو غرض اور مقصد حضرت موسق - حضرت عیسی اور حضرت محمد عربی میں نے کی تھی وہی غرض اور مقصد ہمارا ہے۔۔سوال آپ کا عام مسلمانوں سے کیا اختلاف ہے؟ جواب: ہم الہام الہی کے ہمیشہ کے لئے جاری رہنے کے قائل ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ اسی اصل کے ماتحت حضرت احمد اس آخری زمانہ میں خدا کی طرف سے نبی ہو کر آئے ہیں جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز اور حضرت مسیح کے مثیل ہو کر دنیا میں ظاہر ہوئے۔سوال دوسرے مسلمان آپ کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ جواب: ہمیں وہ لوگ سخت تکلیف دیتے ہیں چنانچہ ابھی ابھی ہمارے ایک مبلغ کو محض اختلاف عقائد کی وجہ سے حکومت کا بل نے سنگسار کرا دیا۔سوال تعجب سے۔کیا حکومت کابل نے ایسا کیا ؟ جواب : ہاں ان نام کے مسلمانوں کو ہم سے اس درجہ اختلاف اور اس قدر بغض وعناد ہے کہ حکومت کا بل نے خود سنگساری کے ذریعہ قتل کا حکم دیا اور پھر اس پر فخر کیا کہ اس نے اچھا کام کیا ہے۔سوال کیا گاندھی موومنٹ بھی آپ کی مخالفت کرتی ہے؟ جواب : ہاں گاندھی کے ہم مذہب لوگ اور مسلمان بھی جہاں کہیں ان کو موقع ملتا ہے ہمیں تکلیف پہنچاتے ہیں اور ہر رنگ میں مخالفت کرتے ہیں۔:سوال یہ لوگ کسی قسم کی تکالیف پہنچاتے ہیں؟