سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 418 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 418

۴۱۸ خاموش تبلیغ ہو رہی ہے۔یہ لوگ چاہتے ہیں کہ باتیں کریں۔دل کی دیں اور دل کی لیں مگر افسوس زبان کے اختلاف کی دیوار حائل، اشاروں کنائیوں سے بات کرتے ہیں۔بعض بعض مسافر انگریزی دان ترجمانی کا کام کر رہے ہیں۔ہماری سن کر ان کو سنا رہے ہیں اور اس طرح سے اب کئی مختلف اکھاڑے بن گئے ہیں۔خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحب ایک جگہ ہیں۔مولوی نیز صاحب دوسری جگہ ہیں بعض دوسرے دوست ایک طرف کو ہیں۔لوگ محبت سے ملتے اور توجہ سے دیکھتے ہیں اور حالات سن کر حیران ہوتے ہیں۔ہماری بے زبانی بھی آخر کام آئی رات کے اخبار کا فوٹو نکال کر لوگوں کو دکھانا شروع کیا۔فرنچ اکثر لوگ جانتے ہیں فوٹو کو دیکھ کر اور حالات کو پڑھ کر متاثر ہوتے ہیں مگر آگے تفاصیل کون سمجھائے۔میں نے اخبار مکر می شیخ صاحب عرفانی کے حوالے کیا جو انگریزی میں گفتگو کر سکتے ہیں۔انہوں نے بعض لوگوں کو دکھایا اور تحریک پیدا ہوئی کہ میلان کے مقامی اخبارات کے ایڈیٹروں کو اطلاع دی جاوے۔نیر صاحب بھاگے اور اِدھر اُدھر دوڑے۔دوڑ کر ٹیلیفون پر گئے مگر جیب میں پیسہ نہیں کہ ڈال کر بات کریں۔خیر خدا نے پیسوں کا بھی بندو بست کیا اور میلان کے مشہور اخبار Corriere dellaisera کے ایڈیٹر کو اطلاع دی جس نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں ابھی آ رہا ہوں چنانچہ تھوڑی ہی دیر بعد سٹیشن پر آ گیا اور ایک انگریزی دان تاجر کی ترجمانی سے حضور سے ملاقات ہوئی۔حضور شہر میں گئے اور میلان کا مشہور اور پرانا کیتھڈال دیکھا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس عمارت کی بیرونی خوبصورتی کی دنیا میں نظیر نہیں پائی جاتی - سنگ مرمر کا کام نہایت خوبصورت کیا گیا ہے۔حضور اس کی بلندی پر ڈیڑھ سو سیڑھی تک چڑھے اور چوہدری محمد شریف صاحب بھی وہیں تک رہ گئے مگر چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور حضرت میاں صاحب او پر تک تشریف لے گئے جو پانچ صد سیڑھی پر ختم ہوا۔ہمارے فرانسیسی اخبار نے لوگوں میں بہت چرچا کر دیا ہے اور اب لوگ کسی اور نگاہ سے ہمیں دیکھنے لگے ہیں۔یہی حال پیرس میں تھا۔پہلے دو تین دن ہم لوگ اجنبی تھے مگر (البیت ) میں جانے کے بعد جب کہ اخبارات میں ذکر ہو گیا تو پیرس کے لوگ بھی جوق در جوق ہمارے گرد جمع