سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 400 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 400

۴۰۰ ہے کہ کس قدر اور ان کو دے دیا جائے ساڑھے آٹھ بجے ان کی گاڑی روانہ ہوگی۔ٹھیک ساڑھے سات بجے ملک غلام فرید صاحب مع اہلیہ اور بچوں کے مکان پر پہنچے اور حضور سے ملے۔حضور ان کو رخصت کرنے کے لئے سٹیشن تک تشریف لے گئے ہیں۔حافظ صاحب کی شاگر د دو عورتیں آج 11 بجے آئیں اور حافظ صاحب اپنے سیکرٹری ( مولوی محمد دین صاحب ) کے ذریعہ سے ان کے ساتھ باتیں کرتے رہے۔عورتیں واقعی شریف اور سنجیدہ ہیں۔حافظ صاحب نے ان کو تصوف کے سلسلہ میں داخل کرنے کے جو شرائط پیش کیے وہ بہت ہی لمبے اور قابل قدر ہیں۔ان عورتوں نے ان کی حقیقت اور صداقت کا اعتراف کیا اور پھر ۲۰ /اکتوبر کا دن مقرر کر کے چلی گئیں۔مصافحہ نہ کرنے کے متعلق انہوں نے عذر کیا کہ ہمارے ملک کا رواج ایسا ہے۔اس کی بہت وقت ہوگی تو حافظ صاحب نے ان سے کہا کہ ہمارے سلسلہ میں داخل ہونا تو ایک موت چاہتا ہے تم مصافحہ کے ترک کرنے سے ڈرتی ہو۔عورتوں سے اور اپنے محرموں سے بے شک مصافحہ کیا کر و غیروں سے مصافحہ کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔حضور ملک غلام فرید صاحب کو رخصت کر کے واپس آگئے۔ان کے بچوں کو پیار کیا اور ایک لمبی دعا فرمائی۔سامان ہمارا آج روانہ ہو گیا ہے گل ۲۳ بھاری بکس روانہ کر دئیے گئے ہیں جو انشاء اللہ پورٹ سعید سے ہمارے جہاز میں چڑھائے جائیں گے۔اس وقت کہ ساڑھے دس بجے ہیں حضور کھانے کے میز پر بیٹھے ہیں۔کھانا کھایا جا چکا ہے۔حضور نے سنگ بنیاد کے متعلق فرمایا کہ ارادہ ہے کہ گورنمنٹ کی تینوں بڑی بڑی پارٹیوں کو لکھا جائے کہ اس موقع پر اپنے نمائندے بھیجیں بلکہ یہ بھی خیال ہے کہ بادشاہ کو بھی لکھا جائے کہ اپنا نمائندہ سنگ بنیاد کی دعا کے وقت بھیجے۔ہمارا کام ہم کو کرنا چاہیے وہ آئیں یا نہ آئیں یہ ان کا کام ہے۔یہ بھی فرمایا کہ اگر فرصت ہو سکی تو ارادہ ہے کہ سارے ملک کو ایک پیغام لکھ کر جائیں اور بادشاہ کو بھی پیغام دے دیا جاوے۔گو یہ ہمارے تبلیغی کام میں حارج ہو گا مگر ہمارا کام ہے کرنا ہے۔بادشاہ کو تبلیغ کرنے سے ملک مخالف ہو جائے گا۔شاہزادہ ویلیز کو تبلیغ کی تھی وہ کتاب یہاں کوئی بھی نہیں لیتا چنانچہ تحفہ شاہزدہ ویلز کا نفرنس کے موقع پر ایک بھی نہیں کی۔وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ اس بات کو انگریز لوگ بُرا مناتے ہیں کہ ان کے بادشاہ یا شہزادہ کو مسلمان ہونے کی تبلیغ کی جاوے۔