سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 379 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 379

٣٧٩ بڑے ہیں۔اب سر بازار سامان باندھا جارہا ہے۔گاڑی دروازہ پر کھڑی ہے۔( بکس بدلوانے ہی کی تجویز ہو گئی ہے چنانچہ یہ بکس واپس جاتے ہیں دوسرے آدیں گے۔) خلاصہ خطبہ جمعہ: قادیانی کے اپنے الفاظ میں۔لہذا غلطی میری غلطی ہوگی ) ۱۰ راکتو بر ۱۹۲۴ء بروز جمعہ پٹنی میں۔کلمہ شہادت- تعوذ - تسمیہ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا انسانی زندگی کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔ہم دنیا کی تمام چیزوں میں دیکھتے ہیں کہ ان میں بعض حالتوں میں اتحاد واتفاق ہے اور بعض میں اختلاف پھلوں میں سے ایک آم ہی کو لے لو بعض باتوں میں تمام قسم کے آم ملتے بھی ہوں گے اور بعض باتوں میں باہم بالکل مختلف ہوں گے۔اسی طرح سے دوسرے تمام پھلوں کو لے لو۔خربوزہ ہے، سنترہ ، سیب اور انار ہیں ان سب میں بعض اتحاد اور بعض اختلاف ہیں۔یہی حال جمادات کا بھی ہے۔غرض دنیا میں کوئی دو چیزیں ایسی نہ ملیں گی کہ ان میں اختلاف نہ ہو اور کوئی جنس ایسی نہ ہوگی کہ ان میں اتحاد نہ ہو۔یہی حال انسان کا ہے۔کوئی ملک اور کوئی قوم اس اصل سے باہر نہیں ہے۔سارے انگریز ، سارے عرب ، سارے ہی مسلمان اور سارے ہی ہند و سب اسی اصل کے ماتحت ہیں۔تمام انسان بلحاظ انسانیت کے متحد ہیں اور خواص وصفات اور اغراض و مقاصد میں با ہم ان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ترقی اور آرام کے حصول میں تمام ہی انسان اتحاد رکھتے ہیں اور ان کے حصول کے ذرائع ان کی تفاصیل عمل اور خیالات میں جداجدا ہیں۔ایک شخص کام کرنے کا نام آرام رکھتا ہے۔محنت کرنے اور کوشش بہی میں اس کو پاتا ہے۔دوسرا لیٹ رہنے اور سونے کا نام آرام رکھ لیتا ہے۔ایک شخص دوسری مخلوق کی خدمت کو آرام اور ترقی کے حصول کا ذریعہ یقین کرتا ہے تو دوسرا لوگوں سے خدمت لینے کے خیال میں اس کو مرکو ز سمجھتا ہے۔ایک شخص اپنا مال لوگوں کو دے دینے میں آرام ، خوشی اور ترقی سمجھتا ہے مگر دوسرا لوگوں کا مال مار لینے اور چھینا جھپٹی کرنے کو مفید اور اچھا جانتا ہے۔ترقی سے بھی مراد خوشی ہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ ترقی اور خوشی لازم ملزوم ہیں۔روحانی ہوں یا جسمانی کوئی تو انعامات الہیہ کے حصول میں خوشی پاتا ہے اور کوئی خود خدا کو پانے میں اور پھر خدا کے ملنے کے بھی مختلف مدارج ہیں کیونکہ یہ امور اس کیفیت کا نتیجہ ہیں جو انسان کے دل میں پیدا ہوتی