سفر یورپ 1924ء — Page 378
۳۷۸ حصہ موجود ہے تو فرمایا بہت اچھا۔حضرت عشاء کی نماز میں تشریف نہ لا سکے تھے۔فرمایا کہ نزلہ زور کا ہے نماز پڑھا دی جاوے۔اس اطلاع پر چوہدری علی محمد صاحب نے حافظ صاحب کی معرفت عرض کیا کہ پھر حضور اجازت دیں تو حضور کے کمرہ میں ہی دعوت شیرینی پیش کر دی جائے۔چنانچہ حضور نے اس درخواست کو منظور فرمالیا اور اس طرح یہ دعوتِ خوشی حضور کے کمرہ ہی میں ہوئی۔دعوت کے بعد نیر صاحب نے آمین کے کچھ اشعار سنائے۔پھر ڈاکٹر صاحب نے پھر حا فظ روشن علی صاحب نے فارسی نظم ” عجب نوریست در جان محمدم ، نظموں کے بعد حضور کی خدمت میں دعا کے لئے درخواست کی گئی۔میں نے فہرست والے دوستوں اور خصوصاً قادیانی احباب کے لئے بھی یاد کرایا۔حضور نے فرمایا دعا تو میں کر چکا ہوں اچھا اب پھر کر لیتے ہیں اور اس طرح پھر سب نے حضرت کے ساتھ مل کر دعا کی۔ایک لطیفہ ہوا جو قابل ذکر ہے۔مولوی نیر صاحب سرِ شام سے یہاں مکان پر تھے اور دفتر میں اپنے پرانے کاغذات کی دیکھ بھال میں مصروف تھے۔ان کو اس خوشخبری کا علم نہ ہو سکا تھا۔مجلسِ دعوت میں وہ بھی شامل تھے۔جب شیرینی کھا چکے تو بولے ” چوہدری صاحب مبارک ہو کیا یہ پہلا ہی لڑکا ہے؟ اس فقرہ پر بے ساختہ وہ قہقہ لگا کہ مارے ہنسی کے پیٹ میں بل پڑ گئے۔احباب کی ہنسی سے وہ اور بھی حیران ہوئے اور تعجب سے پوچھنے لگے آخر بات کیا ہے؟ بتایا گیا۔تب انہوں نے نہایت شرمندگی سے حضرت اقدس کے حضور مبارک باد پیش کی تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ مبارک تو آپ علی محمد کو دے چکے اب پہلے ان سے واپس لیں جب مجھے پہنچے گی۔الغرض اس طرح خوشی خوشی بارہ بجے کے بعد مجلس برخاست ہوئی اور سب دوست اپنے کمروں میں آرام کو چلے گئے۔۱۱ / اکتوبر ۱۹۲۴ء : صبح کی نماز میں حضور تشریف نہیں لا سکے۔سامان کے بکس باندھے جار ہے ہیں۔کتابیں اور اور بھاری سامان جہاز کی کمپنی کی معرفت کراچی کی طرف مال کے جہازوں میں روانہ کیا جا رہا ہے۔اس وجہ سے میری مصروفیت اب پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ذرا دم لینے کو بیٹھ جاتا ہوں اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے لکھ لیتا ہوں۔حضرت اقدس کے سامان کے لئے تین بکس لک والے لے کر آئے ہیں مگر وہ مکان کے اندر داخل ہی نہیں ہو سکتے کیونکہ دروازے چھوٹے اور بکس