سفر یورپ 1924ء — Page 376
خطبہ جمعہ حضرت اقدس نے پڑھا جو انشاء اللہ کل صبح لکھوں گا جو کچھ بن پڑا۔نماز کے بعد حضور ( البیت) کے نقشہ مجوزہ کو ملاحظہ فرماتے رہے۔سر دست ایک منزل بنانے کی تجویز ہے۔عمارت کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا کہ عارضی ہوگی یا مستقل۔عارضی یہاں اس عمارت کو کہتے ہیں جو لو ہے کے گارڈروں وغیرہ سے بناتے ہیں۔مستقل عمارت وہ ہے جو پختہ اینٹوں اور چونے کی بنائی جاوے۔حضرت اقدس کا منشا ہے کہ ایک ہزار پونڈ تک خرچ کر دیا جائے۔قریباً دوسو پونڈ تو پہلے مکان کی مرمت وغیرہ کے لئے بھی درکار ہوں گے۔یہ سب مل ملا کر حضرت اقدس ایک ہزار پونڈ اس جگہ خرچ کرنا چاہتے ہیں۔مولوی عبد الرحیم صاحب نیر کو سرکاری انجینئر کی طرف بھیجا تھا اس نے نقشہ دیکھا اور اجازت دی ہے کہ جہاں آپ پتھر رکھنا چاہتے ہیں رکھ لیں کوئی حرج نہیں اور اگر مستقل عمارت بنانی ہو تو بھی میں خود اجازت دے سکتا ہوں البتہ عارضی عمارت ( گاڈروں کی عمارت ) کے لئے اوپر کاغذات بھیجنے پڑیں گے۔انجینئر صاحب کل غالبا زمین کو دیکھنے کے لئے موقع پر وہ آدیں گے۔حضور سنگ بنیاد ( بیت الذکر ) کے محراب میں رکھنا چاہتے ہیں جو محراب کے اندر کی طرف نظر بھی آتا رہے گا۔پتھر کا مضمون اور نقشہ وغیرہ بھی ابھی تجویز کرنا باقی ہے۔چوہدری فتح محمد خان صاحب دو دن کے لئے لیکچروں کے واسطے باہر جاتے ہیں ان کے لیکچر مقرر ہو چکے ہیں۔کل رات نیز صاحب کا لیکچر تھا تھیو صوفٹ لوگوں میں۔حاضری ۳۵ اور ۴۰ کے درمیان تھی۔ہم میں سے کوئی ایک بھی نہ جاسکا۔نیز صاحب بتاتے ہیں کہ لیکچر بڑا کامیاب ہوا اور لوگوں نے بڑی دلچسپی اور توجہ سے سنا۔لیکچر کے خاتمہ پر ایک انگریز نے کھڑے ہو کر کہا کہ میں تو اس لیکچر کو سن کر مسلمان ہو جا تا ہوں اور اسی طرح سے ایک عورت نے بھی۔غرض کہ ان کے لیکچر کا اچھا اثر ہوا اور وہ بہت مقبول ہوا۔حضرت کا منشا ہے کہ (البيت) کے سنگ بنیا د رکھنے کے دن بہت بڑی دعوت چائے دی جاوے اور کئی ہزار کا رڈ دعوتی شائع کیا جاوے تا کہ کم از کم چار پانچ سو آدمی تو ضرور جمع ہو جائے اور جلسہ بنیاد ( البیت ) لنڈن شاندار ہو اور بہت دعائیں کی جائیں تا کہ کفر و شرک کے اس گڑھ میں