سفر یورپ 1924ء — Page 375
۳۷۵ آج حضور حکم دے گئے ہیں کہ اگر ہم وقت پر نہ آئیں یعنی ساڑھے بارہ بجے تو کھانا کھلا دیا جاوے اور پھر پٹی سوا ایک بے نماز جمعہ کے لئے دوست پہنچ جائیں کیونکہ ہم وہیں پہنچ جائیں گے۔مگر کھانا کھایا جا چکا تھا اور ایک بج کر دس منٹ ہوئے تھے۔دوست پٹنی جانے کے لئے کپڑے پہن کر اُتر آئے تھے کہ حضرت اقدس بھی تشریف لے آئے۔کسی مشہور سپیشلسٹ ڈاکٹر کے ہاں گئے ہوئے تھے۔کھانا کھایا اور جلد جلد فارغ ہو کر فرمایا دوست چلیں چنانچہ ہم لوگ پہلے گئے اور حضور موٹر سے بعد میں پٹنی پہنچے۔جمعہ کی نماز بھی پونے تین بجے کے بعد ختم ہوئی۔ڈاکٹر نے حضور کی صحت کا حال دیکھا۔حلق بھی اچھی طرح دیکھا اور کہا کہ کوئی خاص خطرہ کی بات نہیں سب کچھ بالکل ٹھیک ٹھیک ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ بولنے سے گلے میں تکلیف ہو جاتی ہے۔تب اس نے حضور کا بازو پکڑ کر ٹولا اور کہا کہ جب یہ مضبوط ہوگا تو گلا بھی ٹھیک ہو جائے گا۔یہ پٹھے ڈھیلے اور کمزور ہیں تو گلے کے کیوں ایسے نہ ہوں۔صرف عام جسمانی کمزوری ہے۔اس کے سوا کوئی بیماری نہیں اور کہا کہ کھلی ہوا میں سیر کیا کریں۔مکھن ، دودھ، گھی وغیرہ خوب کھایا کریں اس سے صحت ہوگی اور گلا بھی ٹھیک ہو جائے گا۔حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ اس ڈاکٹر کی رائے مجھے پسند آئی اور میری رائے سے ملتی ہے ورنہ لوگ جو مجھے نہ بولنے کا مشورہ دیا کرتے ہیں وہ مجھے کبھی بھی پسند نہیں آیا۔غرض اللہ کا احسان ہے اور قابل مبارک باد کہ حضرت اقدس کو جن امراض کا خطرہ بتایا جا تا تھا کوئی نہیں ہیں۔آنکھوں کے حلقوں کا درد بھی اسی جسمانی کمزوری کا ہی نتیجہ تھا۔اس معائنہ کے بعد حضور خوش بھی تھے اور اللہ تعالیٰ نے دوسری خوشی اور بھی بھیج دی ہے کہ قادیان سے بچے کی پیدائش کی خبر پہنچی۔شام کی نماز کے بعد تا رحضور نے کھولا جو غالبا ۲ بجے کے بعد کا آیا ہوا تھا۔پہلے جمعہ کی نماز کو چلے گئے اور پھر حضور وہیں سے کسی دوسری جگہ تشریف لے گئے اور شام کے بعد واپس تشریف لائے۔دوستوں نے زبانی بھی اور بعض نے تحریری مبارک بادیں عرض کیں۔حضرت اقدس نے قادیان تار دے دیا مگر قبل اس کے کہ حضور تا ر بھیجتے چو ہدری علی محمد صاحب نے ایک تاراپنی طرف سے کھڑ کا دیا ہے۔(ایکسپریس )