سفر یورپ 1924ء — Page 27
۲۷ حضور کو کل پھر دل کا دورہ شروع ہو چلا تھا۔نماز عصر کے بعد حضور تشریف لائے اور مغرب وعشاء کی نمازوں کے بعد اپنے کمرے میں تشریف لے گئے۔اس اثناء میں حضور نے حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کی وہ نظم جو انہوں نے قادیان سے الوداع کہنے کو لکھی تھی سنی جس کو ڈاکٹر صاحب اور مولوی عبد الرحیم صاحب درد نے خوش الحانی سے پڑھا۔اس کے بعد حضور نے اپنی وہ نظم سنی جو حضور نے ۱۳ / جولائی کو ریل گاڑی میں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کی نظم کے جواب میں لکھی تھی۔ان دونوں نظموں کے بعد حضور نے اپنی ایک پرانی نظم جو حضور نے کئی ماہ پہلے جب کہ مسٹر محمد علی ( شوکت علی ) جیل سے رہائی پانے والے تھے لکھی تھی سنی اور ا بھی نا تمام ہے۔جس کا مصرعہ یہ ہے۔صید و شکار غم ہے تو مسلم خستہ جان کیوں؟ دو مرتبہ سن اور فرمایا کہ یہ ظم مسٹرمحمد علی کے واسطے لکھی تھی۔لطیفہ: کل صبح چوہدری محمد شریف صاحب نے لائم جوس (Lime Juice) منگایا۔جہاز کا خادم لے کر آ گیا۔صاحبزادہ حضرت میاں شریف احمد صاحب سلمه ر به تشریف فرما تھے ان کے پیش کیا۔آپ نے فرمایا میں نے تو منگایا نہیں چوہدری محمد شریف صاحب نے منگایا ہو گا۔یہ سن کر بولا کیا کروں آپ لوگوں میں سے ہر ایک کی ڈاڑھی ہے پہچان تو ہوتی نہیں گڑ بڑ ہو ہی جاتی ہے۔حضرت میاں صاحب نے فرمایا کہ تم لوگوں کی شناخت میں ہمیں ڈاڑھی نہ ہونے کے باعث گڑ بڑ ہو جاتی ہے۔لطیفہ : کل حضور کی خدمت میں کھانے کی فہرست آئی۔بعض چیز میں حضور نے کاٹ دیں بعض رہنے دیں۔ایک چیز کا نام سب سے لمبا لکھا ہوا تھا۔حضور نے اس کے لمبے نام کی وجہ سے اس کو رہنے دیا مگر جب وہ آیا تو معلوم ہوا کہ ایک ابلا ہوا بے چھلا آلو تھا۔لطیفہ : حضور نے کل کی مجلس میں بیان فرمایا کہ کل دوپہر کے کھانے کے ساتھ ایک رومال بجائے تہ کر کے لانے کے نوکدار مینار کی شکل بنا کر لایا گیا۔چوہدری علی محمد صاحب بیٹھے ہوئے تھے تعجب اور حیرت اور کچھ گریڈی (Greedy) آنکھوں سے اس کو دیکھتے رہے۔دیر تک دیکھنے کے بعد آخر ان سے نہ