سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 350 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 350

۳۵۰ ہوا کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کر اور اس سے علم کی ترقی اور روحانی عزت اور ان علوم کے حصول کی دعا کر جو پہلے دنیا کو معلوم نہ تھے۔آپ کی طبیعت پر اس وحی کا ایسا اثر ہوا کہ آپ گھبرا کر اپنے گھر آئے اور اپنی بیوی حضرت خدیجہ سے کہا کہ مجھے ایسا الہام ہوا ہے۔میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ میری آزمائش ہی نہ ہو۔حضرت خدیجہ نے جو آپ کی ایک ایک حرکت کا غور سے مطالعہ کرتی تھیں اس بات کو سن کر جواب دیا کہ نہیں ہر گز نہیں۔یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ آپ کو اس طرح ابتلا میں ڈالے حالانکہ آپ رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتے ہیں اور جو لوگ کام نہیں کر سکتے ان کی مدد کرتے ہیں اور وہ اخلاق آپ سے ظاہر ہوتے ہیں جو دنیا میں اور کسی سے ظاہر نہیں ہوتے اور آپ مہمانوں کی خوب خاطر کرتے ہیں اور جو لوگ مصائب میں مبتلا ہوں ان کی مدد کرتے ہیں۔یہ اس عورت کی رائے ہے جو آپ کی بیوی تھی اور جو آپ کے تمام اعمال سے واقف تھی اور اس سے زیادہ سچا گواہ اور کون ہو سکتا ہے کیونکہ انسان کی حقیقت ہمیشہ تجربہ سے معلوم ہوتی ہے اور تجربہ جس قدر بیوی کو خاوند کے حالات کا ہوتا ہے دوسرے لوگوں کو نہیں ہو سکتا مگر آپ کی تکلیف اس تسلی سے دور نہ ہوئی اور حضرت خدیجہ نے یہ تجویز کی کہ آپ میرے بھائی سے جو بائیبل کے عالم ہیں ان سے ملیں اور ان سے پوچھیں کہ اس قسم کی وحی کا کیا مطلب ہوتا ہے۔چنانچہ آپ وہاں تشریف لے گئے اور ورقہ بن نوفل سے جو حضرت خدیجہ کے رشتہ میں بھائی تھے جا کر پہلے ان کو سب حال سنایا۔انہوں نے سن کر کہا کہ گھبرائیں نہیں تجھے اسی طرح خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی ہے جس طرح کہ موسیٰ کو ہوا کرتی تھی اور پھر کہا کہ افسوس کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں۔کاش میں اس وقت جوان ہوتا جب خدا تعالیٰ تجھے دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث کرے گا اور تیری قوم تجھے شہر سے نکال دے گی۔رسول کریم جو رات اور دن دنیا کی بہتری کی فکر میں لگے ہوئے تھے اور سب اہل شہران سے خوش تھے اس امر کو سن کر حیران ہوئے اور حیرت سے دریافت فرمایا کہ کیا میری قوم مجھے نکال دے گی ؟ ورقہ نے کہا ہاں کبھی کوئی شخص اس قدر بڑے پیغام کو لے کر نہیں آیا جو تو لایا ہے کہ اس کی قوم نے اس پر ظلم نہ کیا ہو اور اس کو دکھ نہ دیا ہو۔اس سلوک اور محبت کی وجہ سے جو آپ لوگوں سے کرتے تھے ، اس محبت کے سبب سے جو آپ کو ہر آدمی سے تھی اور اس خدمت کے ماتحت جو آپ اپنے شہر کے غرباء کی کرتے تھے، یہ بات کہ شہر کے لوگ آپ کے دشمن ہو جائیں گے آپ کو عجیب