سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 349 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 349

۳۴۹ مدد کرے گا۔یہاں تک کہ اس کا حق اسے مل جائے اور اس نوجوانی کی عمر میں آپ کا یہ مشغلہ تھا کہ جب کسی شخص کی نسبت معلوم ہوتا کہ اس کا حق کسی نے دبا لیا ہے تو آپ اس کی مدد کر تے یہاں تک کہ ظالم مظلوم کا حق واپس کر دیتا۔آپ کی سچائی امانت اور نیکی اس عمر میں اس قدر مشہور ہوگئی کہ لوگ آپ کو صادق اور امین کہا کرتے تھے۔جب اس نیکی کا چرچا بہت ہونے لگا تو پچیس سال کی عمر میں آپ کو مکہ کی ایک مالدار تاجرہ عورت خدیجہ نے نفع پر شراکت کا فیصلہ کر کے تجارت کے لئے شام کو بھیجا اور اور آپ کے ساتھ ایک غلام بھی کیا۔اس سفر میں آپ کی نیکی اور دیانت داری کی وجہ سے اس قدر نفع آیا کہ پہلے کبھی خدیجہ کو اس قدر نفع نہ ملا تھا۔اور آپ کے نیک سلوک اور شریفانہ برتاؤ کا ان کے غلام پر جس کو انہوں نے ساتھ بھیجا تھا اس قدراثر ہوا کہ وہ آپ کو نہایت ہی پیار کرنے لگا اور اس نے حضرت خدیجہ کو سب حال سنایا۔ان کے دل پر بھی آپ کی نیکی کا اس قدر اثر ہوا کہ انہوں نے آپ سے شادی کی درخواست کی اور آپ نے اس کو قبول کر لیا۔اس وقت خدیجہ کی عمر چالیس سال کے قریب تھی اور آپ کی عمر کل پچیس سال کی تھی۔خدیجہ نے نکاح کے بعد سب سے پہلا کام یہ کیا کہ جس قدر مال ان کے پاس تھا اور غلام ان کی خدمت میں تھے سب آپ کے سامنے پیش کر دیئے اور کہا کہ یہ سب کچھ اب آپ کا ہے اور آپ نے سب سے پہلے یہ کام کیا کہ سب غلاموں کو آزاد کر دیا اور اس طرح اپنی جوانی میں وہ کام کیا جو اس سے پہلے بوڑھے بھی نہیں کر سکتے تھے یعنی غلامی کی جڑ کو کاٹ دیا حالانکہ آپ اس شہر کے رہنے والے تھے جس کے لئے غلامی بمنزلہ ایک روح کے تھی جن کے بغیر اس کے کام چل ہی نہ سکتے تھے۔آپ اپنے ملک کی خرابیوں کو دیکھ کر بہت افسردہ رہتے تھے اور بالعموم شہر سے تین میل کے فاصلہ پر حرا نامی پہاڑ کی چوٹی پر جا کر ایک پتھروں کی غار میں بیٹھ کر اپنے ملک کی خرابیوں اور شرک کی کثرت پر غور کیا کرتے تھے اور اسی جگہ ایک خدا کی پرستش کیا کرتے تھے۔اس عبادت میں آپ کو اس قد ر لطف آتا تھا کہ آپ کئی دفعہ کئی کئی دن کی غذا گھر سے لے کر جاتے تھے اور کئی کئی دن اس غار میں ہی رہتے تھے۔آخر جب کہ آپ چالیس برس کی عمر کے تھے آپ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام نازل