سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 343 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 343

۳۴۳ ر, کے مرد تو اب ہماری ویسی عزت نہیں کرتے جو ہمیں حاصل تھی۔گاڑیوں میں، بسوں پر اور ٹیوب ریلوے میں ہمیں جگہ نہیں دی جاتی۔مرد بیٹھے رہتے ہیں اور عورتوں کو کھڑے دیکھ کر بھی جگہ نہیں دیتے مگر بعض مردوں نے ان کو جواب دیا کہ ” تم اب مردوں کی برابری کا دعوی کرتی ہو۔حقوق برابر کے مانگتی ہو لہذا تکالیف بھی تو مردوں کے برابر برداشت کرنے کی عادت ڈال لو۔اس کے بعد حافظ صاحب نے قرآن شریف - دیوان حافظ اور پھر مثنوی رومی کے چند اشعار پڑھے اور جلسہ برخاست ہو کر بل وغیرہ ادا کئے۔دربان کو انعام دیا اور موٹر پر سوار ہو کر حضور بچوں کی درخواست پر لیکچر دینے کو لنڈن فیلڈ ز میں تشریف لے گئے۔باقی ساتھی بس اور ریل کے ذریعہ حضور کے بعد پہنچے جہاں پہلے ان کے لڑکے لڑکیاں اپنا قومی گیت گا رہے تھے۔گیت سے فراغت کے بعد ہال کو دوسرے رنگ میں تیار کیا گیا اور حضرت اقدس کو اس میں لے گئے جہاں ۵۰ یا ۶۰ مرد وعورت نوجوان موجود تھے۔پریذیڈنٹ بھی ایک نو جون لڑکا بنایا گیا تھا۔پہلے ان لوگوں نے گیت گائے اور پھر حضرت اقدس سے درخواست کی کہ حضورا اپنا مضمون سنائیں۔حضرت نے انگریزی میں خود نہ پڑھنے کی معذرت کی اور جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو پڑھنے کا ارشاد فرمایا۔چوہدری صاحب نے نہایت خوبی سے مضمون کو پڑھا اور ان کے لہجہ کو ملحوظ رکھ کر ادا کیا۔ایک گھنٹہ سے زیادہ وقت میں مضمون ختم ہوا۔لیکچر کے خاتمہ پر پریذیڈنٹ نے سوالات کی اجازت دی چنانچہ دو سوال کئے گئے۔جن کے جواب حضرت اقدس کے ارشاد پر چوہدری صاحب نے دیئے جو حضور نے بتائے۔پہلا سوال تھا کہ آپ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق تو ہمیں بہت کچھ بتایا اور ہمارے علم میں بہت بڑا اضافہ کیا مگر اپنے سلسلہ کا بھی کچھ حال سنائیں۔اس پر حضرت اقدس نے چوہدری صاحب کی معرفت ان کو سلسلہ کا مختصر سا ذکر اور خصوصیات سلسلہ سنا ئیں۔تمام مذاہب میں پیشگوئیاں تھیں، پوری ہوئیں اور کہ حضرت مسیح موعود ان پیشگوئیوں کے پورا کرنے والے ہیں۔دوسرا سوال کیا گیا کہ جنگ کے متعلق آپ کے کیا خیالات ہیں۔آپ تو امن کی تعلیم دیتے ہیں اس کے متعلق بھی کچھ روشنی ڈالیں۔اس کا بھی مفصل جواب حضرت اقدس نے ان کو دیا۔