سفر یورپ 1924ء — Page 308
(۱) پندرہ ہیں وفاتوں کی خبریں آگئی ہیں۔(۲) مولوی نعمت اللہ خان کی شہادت کا واقعہ ہے۔(۳) بھیرہ کا بلوہ اور اس میں چالیس احمدیوں کا گرفتار ہو جانا ہے۔(۴) قادیان میں وباء ہیضہ کا پھوٹ پڑنا۔( ۵ ) اور بلوہ کے مقدمہ کی صورت میں جس کا ہماری موجودگی میں وہم تک بھی باقی نہ رہا تھا ہمارے بعض معزز دوستوں کو بھی ملوث کرنا وغیرہ امور ہیں۔ان کے علاوہ ابھی پرسوں ہی (۶) حضرت میر صاحب کی وفات کی خبر آ گئی ہے جو ہمارے نانا تھے۔یہ اور ایسے بعض اور واقعات انسان اگر گھر میں ہو اور وطن میں ہوتے ہوئے بعض مشکلات پیش آویں تو ان کا رنگ اور ہوتا ہے مگر سفر میں اس کے بالکل بر عکس ہوتا ہے۔ہم غم اور تکالیف چاہتے ہیں کہ انسان کچھ آرام کرے مگر کام چاہتا ہے کہ اس کا حق ادا کر کے اسے پورا کیا جائے۔اب تک جس قدر بھی رنج و غم کی خبر میں آئی ہیں انتہائی مشغولیت اور گہری مصروفیت میں آئی ہیں۔میر صاحب کی وفات کی خبر آئی تو میں مضمون لکھ رہا تھا۔جسم چاہتا تھا کہ آرام کروں مگر فرض کہتا تھا کہ کام کروں۔میں نے دیکھا کہ ایک ایک منٹ کے بعد قلم رکھتا تھا۔غرض سفر میں ایسی خبریں اور بھی زیادہ تکلیف کا باعث ہوتی ہیں لیکن بعض باتیں اور بھی ہیں جن کی طرف ان خوابوں میں اشارہ تھا۔میں نے ان کو ظاہر نہ کیا اور نہ اب ظاہر کرتا ہوں کیونکہ اولیاء اللہ کا طریق یہی ہے کہ منذر خوابوں کا حتی الامکان بیان نہ کیا کرتے تھے۔ہمارے حضرت اقدس کا بھی یہی طریق تھا۔پس میں نے اسی طریق کوملحوظ رکھتے ہوئے ان کو ظاہر نہ کیا۔ان دوماہ کی غیر حاضری میں جو واقعات پیش آئے ہیں بعض حالات کی وجہ سے بہت ہی اہم ہیں بعض مخلص مثلا شیخ فضل کریم صاحب حیدر آبادی جن کی ذات سے سلسلہ کو بڑی بھاری مدد ملا کرتی تھی بعض عزیز اور بعض بزرگ گزر گئے ہیں اور ہیضہ یا مقدمه بلوه قادیان یا مقدمه بلوہ بھیرہ ایسے ہیں کہ جن میں ہماری عدم موجودگی لوگوں کے لئے اور بھی گھبراہٹ کا موجب ہوئی۔مشکلات کے وقت اگر اپنے محبوب اور پیارے پاس ہوں تو گونہ تسلی بھی ہوتی ہے مگر اگر وہ پاس نہ ہوں تو گھبراہٹ بہت بڑھ جاتی ہے۔یہی حال ان دنوں قادیان میں اور بھیرہ میں ہوا ہے۔ہمیں دو قسم کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ایک وہ جو کام چاہتے ہیں مثلاً مقدمات دوسرے وہ جو آرام چاہتے ہیں مثلاً بعض موتیں۔پس ہمارے لئے دونوں ایک دوسرے کو کاٹ کر