سفر یورپ 1924ء — Page 297
۲۹۷ آدمیوں نے ان کے مضمون پڑھنے کی خوبی کی وجہ سے مبارک بادیاں پیش کیں اور ساتھ ہی مضمون کی خوبی اور شوکت و تاثیر کا بھی اعتراف کیا اور اس بات کا صاف اقرار کیا کہ حقیقتا یہی ایک مضمون کانفرنس کی روح رواں اور رونق و کامیابی کا باعث تھا جو اس سے پہلے ہم نے سنا نہ اور کسی سننے والے نے بتایا۔الغرض خدا تعالیٰ کے فضل نے ایسی صورتیں پیدا کر دی ہیں کہ حضور کا اس ملک میں آنا نہایت ہی مفید اور بابرکت ہو رہا ہے۔خوف تھا اور سچا تھا کہ ابھی اس ملک میں ہمارے سلسلہ کی کوئی عظمت اور خصوصیت قائم نہیں ہوئی حضور کا یہاں تشریف لانا شاید قبل از وقت ہو مگر خدا تعالیٰ نے وہ کچھ دکھایا کہ کم ایسا دکھا سکتا کوئی خواب۔مشہور اور بہت آگے نکلے ہوئے لوگ بھی خدا تعالیٰ نے پیچھے ڈال دیئے ہیں - وذلك فضل الله يوتيه من يشاء اور یہ وہی فضل ہے جو ہمارے آقا کے لئے ازل سے مقدر اور حضور کی ذات سے وابستہ و پیوستہ تھا۔اخبارات بھی لکھ رہے ہیں اور بہت تعریفی کلمات استعمال کرتے ہیں۔ان متعصب عیسائی اخبارات کے قلم سے اسلام کی تعریف میں کوئی ایک کلمہ بھی نکل جانا بہت بڑی بات ہے جس کے معنے ہیں کہ انہوں نے اپنے خیال اور اپنے مذہب کے خلاف کسی دوسرے مذہب کی تعریف یقیناً صداقت باہرہ سے مجبور ہو کر اور اس کے آگے گردن ڈال کر ہی لکھی ہے ورنہ کون اپنے مذہب کے مقابل میں کسی دوسرے کی تعریف و بڑائی بیان کر سکتا ہے-والفضل ما شهدت به الاعداء- مانچسٹر گارڈین نے لکھا ہے کہ کانفرنس میں پڑھے جانے والے مضامین میں سے سب سے بلند پایہ اور زیادہ پسندیدہ مضمون اسلام پر جماعت احمدیہ کے امام کا مضمون تھا جس کی قبولیت اور بہت تعریف ہوئی۔کٹنگ بھیجتا ہوں۔اس کے علاوہ مسٹر ڈبلیو لافٹس ہیر نے کانفرنس مذاہب پر اپنے تاثرات کے سلسلہ میں جو لکھا وہ ملاحظہ فرمائیں۔بر خلاف ان باتوں کے امام جماعت احمدیہ نے سب سے پہلے ہماری دعوت کو منظور فرمایا اور ان کی منظوری نے ہمارے انتظامات کو کامیاب بنانے میں بہت مدددی۔اب میں اپنے مضمون کے اس حصہ کی طرف آتا ہوں جو پڑھنے