سفر یورپ 1924ء — Page 289
۲۸۹ اختلاف کی وجہ سے ہندوؤں مسیحیوں اور دوسرے مذہب والوں کو مارنا یا ان کے خلاف لڑنا درست نہیں۔پس وہ اپنی خاطر جان نہیں دیتے بلکہ تمام بنی نوع انسان کی خاطر جان دیتے ہیں۔قتل کو پولیٹیکل رنگ دینے کی کوشش : مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ افغان گورنمنٹ کے بعض سفیر اب یہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس قتل کو پولیٹیکل رنگ دیں مگر وہ ان واقعات کو کہاں چھپا سکتے ہیں کہ اس قتل سے پہلے وہ دو ہمارے آدمی محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے قتل کر چکے ہیں اور مسٹر مارٹن ایک غیر جانبدار کی شہادت موجود ہے۔پھر اس واقعہ کو وہ کہاں چھپا سکتے ہیں کہ کابل کے بازاروں میں اس امر کا اعلان کیا گیا ہے کہ مولوی نعمت اللہ خان کو ارتداد کی وجہ سے سنگسار کیا جائے گا اور آخر میں کابل کے نیم سرکاری اخبار حقیقت کو وہ کہاں لے جائیں گے جس نے مقدمہ کی پوری کا رروائی چھاپ دی ہے اور تسلیم کیا ہے کہ شہید مرحوم کے سنگسار کئے جانے کا باعث اس کا مذہب تھا اور پھر وہ اس تمام خط و کتابت کو کہاں چھپا دیں گے جو کابل گورنمنٹ نے زور دیا ہے کہ ڈاکٹر فضل کریم کو لیکیشن سے واپس کر دیا جائے کیونکہ وہ احمدی ہے۔یہ تمام واقعات بتار ہے ہیں کہ افغان گورنمنٹ مذہبی طور پر احمدیوں سے عداوت رکھتی ہے یا ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ اس کو عداوت ہے اور یہ کہ مولوی نعمت اللہ خان کے قتل کی وجہ صرف ان کی احمدیت تھی۔افغان گورنمنٹ ہمدردی کی محتاج ہے : شہادت کے حالات کے متعلق میں اور کچھ نہیں کہنا چاہتا مگر میں مضمون کے ختم کرنے سے پہلے یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ باوجود اس لمبے عرصہ کے ظلم کے میں اپنے دل میں افغان گورنمنٹ اور اس کے حکام کے خلاف جذبات نفرت نہیں پاتا۔اس کے فعل کو نہایت برا سمجھتا ہوں مگر میں اس سے ہمدردی رکھتا ہوں اور وہ میری ہمدردی کی محتاج ہے۔اگر کوئی شخص یا اشخاص اخلاقی طور پر اس حد تک گر جائیں کہ ان کے دل میں رحم اور شفقت کے طبعی جذبات بھی باقی نہ رہیں تو وہ یقیناً ان لوگوں سے جو صرف جسمانی دکھوں میں مبتلا ہیں ہماری ہمدردی کے زیادہ محتاج ہیں۔میں نے آج تک کسی سے عداوت نہیں کی اور میں اپنے دل کو اس واقعہ کی وجہ سے خراب کرنا نہیں چاہتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ میرے بچے متبع بھی اسی طریق کو اختیار کریں گے۔میں کسی ایسی میٹنگ میں شامل نہیں ہوتا جو ا ظہار غیظ وغضب کی خاطر منعقد کی گئی۔