سفر یورپ 1924ء — Page 245
۲۴۵ قلب کی صفائی اصل صفائی ہے اور جوارح کی صفائی اس کے تابع ہے۔ساتویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ کوئی علمی یا ذہنی ترقی انسان کو عمل سے آزاد نہیں کر سکتی۔خدا تعالیٰ کا قانون چٹی نہیں ہے کہ ہم اس سے کسی وقت بھی آزاد ہوسکیں۔وہ طبعی قانون کی طرح سبب اور نتیجہ کے اصول پر مبنی ہے اس پر عمل کئے بغیر ہم روحانی ترقی حاصل نہیں کر سکتے۔گناہ اس لئے گناہ نہیں کہ خدا نے اس سے منع کیا ہے بلکہ خدا نے اس سے اس لئے روکا ہے کہ وہ ایک روحانی زہر ہے۔پس شریعت انسان کو گناہ گار نہیں بناتی بلکہ گناہ سے بچنے میں مدد دیتی ہے جس کو پہلے سے خبر دے دی جائے وہ پہلے سے مقابلہ کے لئے تیار ہو جاتا ہے نہ کہ خبردار کرنے سے انسان گڑھے میں گر جاتا ہے۔حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں گناہ ایک زہر کی طرح ہے یعنی جس طرح زہر سے اس لئے روکا جاتا ہے کہ وہ مضر ہے اسی طرح سے گناہ سے روکا گیا ہے۔زہر ڈاکٹر کے منع کرنے کی وجہ سے مہلک نہیں بنتا۔اسی طرح گناہ خدا تعالیٰ کے منع کرنے کی وجہ سے مہلک نہیں بنتا۔آٹھویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ سے ہی تعلق نہیں مضبوط کرنا چاہیے بلکہ بنی نوع انسان سے بھی اپنے تعلقات کو مضبوط کرنا چاہیے اور ایسے کاموں سے بچنا چاہیے جو فساد اور جھگڑے کا موجب ہوتے ہیں اور چاہیے کہ جو نعمتیں اسے ملیں ان سے بجائے حکومت اور غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے اپنے سے کمز ور لوگوں کی خدمت کرے۔یہ وہ پیغام ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مسیح موعود لائے ہیں اور ہر ایک شخص ادنی سے غور سے سمجھ سکتا ہے کہ یہ پیغام کیسا اہم اور کیسا ضروری ہے۔یہ پیغام امید کا پیغام ہے۔امن کا پیغام ہے اور حکمت کا پیغام ہے۔اگر دنیا اس پیغام کی طرف توجہ کرے تو اس کی تمدنی اور روحانی دونوں حالتوں کی اصلاح ہو جائے۔یہ پیغام انسان کی طرف سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔مسیح موعود یہ نہیں کہتا کہ میں اپنی عقل سے یہ باتیں تم کو سناتا ہوں بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ میں تم کو وہ کچھ کہتا ہوں جو خدا تعالیٰ نے مجھے کہا ہے کہ میں تم کو سناؤں اور خدا تعالیٰ کے پیغام سے زیادہ اہم اور کونسا پیغام ہوسکتا ہے۔اے بہنو اور بھائیو! اگر انسان کو خدا تعالیٰ پر یقین ہو تو وہ کبھی قصوں اور کہانیوں پر تسلی نہیں پاسکتا۔ہمیں اپنی مذہبی کتابوں میں یہ پڑھ کر کہ پرانے زمانہ میں خدا تعالیٰ اس طرح بولا کرتا تھا کیا