سفر یورپ 1924ء — Page 11
11 کیا مگر وہ ہمارے پاس نہ تھے حضرت کے ساتھ تھے۔تنگ آکر مجبور ہو گئے اور ہمیں پکڑ کر ایک مُہر ہمارے بازو پر لگا دی کہ تم پاس ہو گئے ہو۔اس پاس کی علامت کو لے کر ہم لوگ اپنے جہاز کے پاس گئے جہاں ہمارے آقا وسردار مع تمام خدام کے پہنچ چکے تھے۔سامان اندر جارہا تھا مگر ہمیں جانے کی ابھی اجازت نہ تھی۔دوبارہ بڑے ڈاکٹر کا معائنہ ہوا اور سب سے پہلے ہم دونوں (چوہدری علی محمد صاحب اور قادیانی ) کو جہاز کے اندر جانے کی اجازت ہوئی۔جہاز افریقہ : سیدنا حضرت خلیفہ امسیح اور دوسرے سیکنڈ کلاس مسافر خان صاحب ذ وا الفقار علی خان صاحب ، حافظ صاحب ، حضرت میاں صاحب مرزا شریف احمد ، چوہدری فتح محمد خان صاحب اور چوہدری محمد شریف صاحب لاہور کے ان لوگوں کو بھی آسانی سے اجازت ہو گئی مگر ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب، مولوی رحیم بخش صاحب شیخ صاحب مصری اور شیخ صاحب عرفانی اور میاں رحدین کے طبی معائنہ میں ایک حد تک دقت ہوئی جس کی بڑی وجہ یہ ہوئی کہ یہ دوست ہمارے ساتھ پہلے چھوٹے ڈاکٹر کے پاس معائنہ کو نہ گئے تھے بلکہ سیدھے بڑے ڈاکٹر کے پاس آ گئے تھے مگر چھوٹے ڈاکٹر اور چھوٹی پولیس نے یہاں روک پیدا کی اور خراب کرنے کی کوشش کی آخر بمشکل آخری لمحہ پر اجازت ہوئی۔سامان اندر پہنچ چکا تھا۔جہاز کے انجن نے وسل روانگی کا کر دیا تھا کہ یہ بزرگ جہاز میں آئے مگرمیاں رحمدبن اور چوہدری فتح محمد خان صاحب اب تک نہ پہنچ سکے جن کے لئے گھبراہٹ تھی۔جہاز کی سیڑھی بھی اب اُٹھائی جانے والی تھی مگر میاں رحمد دین اور چوہدری صاحب دونوں نہ آئے جس کی وجہ صرف یہ ہوئی کہ دونوں کے ٹکٹ بعد میں خرید کئے گئے تھے اور وہ پولیس کی لسٹ میں نہ درج ہوئے تھے۔ان دونوں کا آنا اور جہاز میں قدم رکھنا تھا کہ جہاز کی سیڑھی اُٹھا دی گئی۔اور اندر کے اندر اور باہر کے باہر رہ گئے اور ہمارے اور ہمارے دوستوں کے درمیان سمند ر حائل ہو گیا۔دعا اور جہاز کی روانگی : اس علیحدگی سے پہلے جب کہ جہاز نے وسل دیا تھا حضور نے دعا کے لئے ہاتھ بڑھائے اور دوستوں کو رخصت کرنے کی دعا فرماتے تھے۔دعا قدرے لمبی ہو گئی۔جہاز کا