سفر یورپ 1924ء — Page 10
1۔علی الصباح ہم کو 4 بجے روانہ ہو جانا چاہئیے۔بمبئی : میں اوپر عرض کر چکا ہوں کہ ریل سے اُترتے ہی پہلی خبر ہمیں یہ ملی کہ جہاز علی الصباح روانہ ہو جائے گا۔اس خبر کا اثر ہم سب پر تھا کیونکہ اکثر سامان کی خرید و فروخت بمبئی کے لئے ملتوی کی گئی تھی جو اب ناممکن تھی۔بڑی ہی کوشس کی گئی۔محنت سے کام کیا گیا۔ساری رات جاگتے جاگتے گزاری دی مگر کچھ نہ بنا اور اکثر حصہ ضروریات کا باقی رہ گیا۔کمبل ملے نہ جراب و بنیان ملیں۔سلیپر لئے گئے نہ ڈیک شوز - خوردونوش کا سامان ہوا نہ کوئی فروٹ لیا جا سک حتی کہ سامان پر لیبل بھی نہ لگ سکے۔مدراس سے اور کلکتہ سے کچھ لٹریچر آیا ہوا تھا اس کے بکسوں کو نہ کھولا گیا نہ کتا ہیں لی گئیں بلکہ سارے کے سارے بکس ساتھ اُٹھالئے گئے اور کوئی بکس بمبئی میں ہی رہنے دیا گیا۔نہ معلوم کیا کچھ ساتھ لینا تھا اور کیا لیا گیا۔نہ معلوم کیا کچھ چھوڑ نا تھا اور کیا کچھ چھوڑا گیا۔لنڈن پہنچ کر کھولا جانے پر ہی معلوم ہوگا کہ کیا ہونا چاہیئے تھا اور کیا ہو گیا ہے۔الغرض تمام اسکیم، ساری تجاویز نا تمام رہ گئیں اور ہمیں اپنی کمزوریوں کا یقین ہوتے ہوئے از سر نو اللہ تعالیٰ پر ہی تو کل اور بھروسہ ہو گیا اور حقیقت یہی ہے کہ ہمارے سارے کام محض اللہ ہی کے بنانے سے بنتے چلے آئے۔ابتدا سے لے کر انتہا تک ہما را و ہی سہارا بنا ہے اور اسی کے فضل سے ہماری رہبری اور راہ نمائی ہوئی ہے۔اسی طرح اب بھی اس آخری مرحلہ پر اس نے ہماری مدد کی اور صبح کی نماز کے بعد بمشکل ایک موٹر لاری ملی جس پر تمام سامان با ر کر کے ڈیک پر پہنچا دیا گیا ورنہ پہلے گڈوں کا انتظام کیا گیا تھا جو یقیناً وقت پر نہ پہنچ سکتے۔میں ( عبد الرحمن قادیانی) چوہدری علی محمد اور میاں رحمد بن متینوں موٹر لا ری کے ذریعہ سے ڈاکٹری معائنہ کرانے کے واسطے گئے۔بابو عبد الغنی صاحب جو پہلے کسی وقت قادیان میں کام کر چکے ہیں ہمارے ساتھ تھے۔پولیس مین جو بھپارہ کے مکان کے دروازہ پر کھڑا تھا اس نے دیکھ لیا کہ ہم لاری سے اُتر کر طبی معائنہ کے لئے آگئے ہیں اور سامان آگے بھیج دیا ہے۔وہ اس بات سے چڑ گیا اور ڈاکٹر کو اُکسانے لگا کہ ان لوگوں نے سامان کی لاری آگے بھیج دی ہے اس کو بھی منگایا جاوے اور بھپارہ د رہ دلایا جاوے۔ڈاکٹر بھی بہت اچھلا کو دا اور پھر کا۔ایک اور آفیسر کو بھڑ کا یا اور کہا کہ میں - تم کو ہرگز ہرگز پاس نہ کروں گا۔اصل مدعا ان سب کا صرف کچھ وصول کرنا تھا مگر ہمارے پاس کوئی فنڈ نہ تھا جس سے ان کی شکم پُری کر سکتے۔آخر چارونا چار وہ ڈھیلے ہونے لگے۔ٹکٹ مانگنا شروع