سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 194 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 194

۱۹۴ اس پر اس بنگالی نے عرض کیا کہ اس طرح سے ہندوستان کے مسلمان بھی اور حکومت کا بل بھی آپ کے سخت خلاف ہو جائے گی اور آپ کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔حضور نے فرمایا کچھ پرواہ نہیں۔پہلے کون سے وہ لوگ ہمارے دوست ہیں۔اب اگر مظلوم ہوکر بھی آواز نہ اٹھا ئیں تو کیا کریں۔اسلامی وقار کا خیال : اس پر اس نے کہا کہ اگر حکومت کا بل کو اس سے کوئی نقصان ہوا تو آپ کو تکلیف تو نہ ہوگی آخر ایک اسلامی حکومت ہے۔حضور نے فرمایا کہ اسلامی حکومت کے نقصان کو تو ہم لوگ کسی صورت میں بھی گوارا نہیں کر سکتے اور باوجود مخالفت اور تکالیف کے بھی ہم چاہتے ہیں کہ اسلامی وقار جہاں تک ممکن ہو اور اسلامی شوکت جہاں تک قائم رہ سکے قائم رکھنے میں ہر ممکن مدد کریں گے مگر جہاں حق وصداقت کا سوال ہوا اور اس کو کسی وجود سے نقصان کا اندیشہ ہو یا اس کے راستہ میں جو چیز بھی روک ہو اس کی ہم لوگ بالکل پرواہ نہیں کرتے کیونکہ حق وصداقت وہ چیز ہیں جن کے قیام کی خاطر ہر چیز قربان کی جاسکتی ہے۔ان باتوں کو سن کر وہ شخص بہت متاثر ہوا اور کہا کہ واقعی آپ لوگ حق پر ہیں۔لہذا میں بھی آپ کے ساتھ ہوں اور پوری خدمت اور مدد کے واسطے حاضر ہوں۔ان حالات میں ہمیں ایک منٹ بھی نہ کھونا چاہیئے اور فوراً کوئی کارروائی شروع کر دینی چاہیئے۔جس کے لئے اس نے بتایا کہ شہر میں کوئی بڑا ہال کرایہ پر لے کر احتجاجی تقریر میں شروع کر دینی چاہئیں اور اس کام کے لئے میں اپنا نام بھی دوں گا جس سے امید ہے کہ لوگ کثرت سے آئیں گے اور اخبارات بھی اس معاملہ کو بڑی بڑی شاندار سرخیوں کے نیچے خاص طور پر شائع کریں گے۔اس طرح آپ دیکھیں گے کہ چند روز میں دنیا میں کس قدر شور بپا ہوتا ہے۔چنانچہ ساڑھے نو بجے ۶ ستمبر کا دن اس نے مقرر کیا کہ ہال وغیرہ دیکھنے کو چوہدری فتح محمد خان صاحب سیال اس کے ساتھ ہوں تا کہ مشورہ کے بعد مناسب جگہ کا فیصلہ کیا جا سکے۔ڈیڑھ بجے کے قریب حضور اس کی ملاقات سے فارغ ہوئے۔یہ باتیں کچھ حضرت اقدس سے میں نے سن کر اپنے لفظوں میں لکھی ہیں اور کچھ عرفانی صاحب سے سن کر جو اس وقت کمرہ میں نوٹ لے رہے تھے۔