سفر یورپ 1924ء — Page 177
122 باتیں اور وقت پوچھوا یا مگر چوہدری فتح محمد خان صاحب اور ملک مولا بخش صاحب نے مخالفت کی اور عرض کی کہ یہ بات وقار کے خلاف ہے۔لوگ کہیں گے کہ اپنی تصویروں کو دیکھنے آئے ہیں لہذا حضور نے اس بات کو پسند فرمایا کہ میں سینما کو تو دیکھنا چاہتا ہوں مگر ایسا ہو کہ جس میں خرافات نہ ہوں بلکہ صرف میدان جنگ کے نظارے اور علمی و تاریخی واقعات دکھائے جائیں۔آج تو میں بیمار بھی ہوں لہذا ان سے کہہ دو کہ نہیں آسکتے مگر بعض دوستوں کی تحریک پر فرمایا کہ اچھا علی محمد سے کہہ دو کہ دیکھ آوے چنانچہ چوہدری علی محمد صاحب دیکھنے کو گئے ہوئے ہیں اور حضرت اقدس آج مکان سے باہر تشریف نہیں لے جا سکے۔اتوار کے دن عرفانی صاحب سبز کے سوا دوسری پگڑی بندھ کر لنڈن کے بڑے گر جا میں گئے جہاں ان کو اچھی جگہ بٹھایا گیا اور وہ سرمن وغیرہ سن کر واپس آگئے۔تکلفات بہت سناتے ہیں کہ گر جا کے اندر ہوتے ہیں۔عورتیں اور مرد ادھیڑ عمر کے زیادہ جاتے بتاتے ہیں نو جوان کم مگر کہتے ہیں کہ جو لوگ جاتے ہیں دل سے جاتے ہیں۔چوہدری علی محمد صاحب سینما دیکھ کر واپس آگئے اور انہوں نے بتایا کہ حضرت اقدس کا مع خدام اس یادگار پر تشریف لے جانا اور دعا کرنا اور ادھر اُدھر پھرنا پورے کا پورا فلم پر لے لیا گیا ہے جو ہو بہو نظر آتا ہے۔پوری صفائی اور ٹھیک ترتیب سے کوئی فرق کسی قسم کا ظاہر اور اس فوٹو میں نہیں ہے اور لوگ بڑے ادب استعجاب اور توجہ اور حیرت سے اس نظارہ کو دیکھتے ہیں۔کوئی مثال ہنسی اور مذاق یا بے ادبی و گستاخی کی دیکھنے میں نہیں آئی۔رات حضور ساڑھے ۱۲ بجے تک اس مضمون کا ترجمہ درست کراتے رہے جو مذہبی کا نفرنس میں پڑھا جانے والا ہے اور جسے جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نہایت محبت بلکہ عشق اور شوق سے کر رہے ہیں۔لنڈن کا شہر اس قدر وسیع ہے کہ اس کی ابتدا انتہا کا پتہ لگانا مشکل ہے۔۷۰ لاکھ انسان ہے۔۷۰ اس میں بستے ہیں۔میلوں میں باغات اور سیر گاہیں اور تماشا گا ہیں آبادی کے درمیان بنائے گئے ہیں۔دریا اور جھیلیں اس کے درمیان سے نکلتی ہیں۔اوور گراؤنڈ (Over Graund) اور انڈر گراؤنڈ (Under Graund) ٹیوب لائنز کی سینکڑوں ٹرینیں ایک ایک دو دو منٹ کے بعد چلتی