سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 173 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 173

۱۷۳ ملاقات ہوئی اور دو پہر تک باتیں ہوتی رہیں۔ہمارے مقامی مبلغ کہتے ہیں کہ وہ خواجہ صاحب سے بیزار ہے مگر اس نے حضرت اقدس کے سامنے خواجہ صاحب کی تعریف ہی کی اور ان سے محبت و اخلاص کا اظہار کیا۔ہمارے مولوی غیر صاحب نے اس سے کسی معاملہ میں لجاجت کی اور کوئی درخواست امداد کسی رنگ میں کی جس کو حضرت اقدس نے بہت ہی ناپسند فرمایا اور فر مایا کہ یہ تو وقار کو صدمہ پہنچانے والا طریق ہے اور یہ طریق ہمیں قطعا پسند نہیں۔یہ شخص گو مسلمان ہے مگر نماز روزہ کی ضرورت نہیں سمجھتا اور کہتا ہے کہ یہ باتیں وقتی تھیں اب ضرورت نہیں کیونکہ زمانہ ترقی کر گیا ہے۔اسلامی پردہ کا بھی قائل نہیں اور اس کو نا قابل عمل حکم سمجھتا ہے۔سود کے متعلق کہتا ہے کہ میں نہیں لیتا جس کے معنے یہ ہیں کہ لینا منع ہے دینا منع نہیں وغیرہ وغیرہ۔ایسی باتیں یہاں کیں کہ جو اسلام کے خلاف ہیں اور ایسا طریق اور طرز بیان تھا جو ایک مسلمان سے ہر گز نہیں اُمید کیا جاتا۔اس سے ان لوگوں کے اسلام کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔حضور نے آج سیر کا وقت تبدیل فرما دیا۔فرمایا کہ کھانے کے بعد سیر کو جانے سے ہی پیچش کی تکلیف ہوگئی لہذا آئندہ سیر بجائے بعد مغرب کی نماز کے مغرب کی نماز سے پہلے کیا کریں گے۔حضرت خلیفہ اسیح کی سیر : حضور کی سیر اتنے دن کیا رہی ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ شام کی نماز کے بعد اندھیرے میں ہائیڈ پارک تک جا کر پھر کھلی سڑک کے بازاروں میں کبھی دریا کے کنارے کبھی پارک کی جھیل کے کنارے دو دو گھنٹہ تک تیزی سے چلتے جاتے تھے حتی کہ بعض ساتھی بعض اوقات بہت ہی تھک جاتے تھے۔گیارہ بجے کے بعد حضور تشریف لاتے تھے۔آج کی سیر 4 بجے کے بعد ہوئی۔سیر سے پہلے حضور کی خدمت میں بعض لوگ ملاقات کو آئے جن سے حضور ملاقات کر کے بعد 4 بجے کے سیر کے لئے تشریف لے گئے۔ہائیڈ پارک میں جا کر جھیل میں حضور نے ایک کشتی لی جس کو خود چلاتے رہے اور دوسری کشتی میں دوسرے ساتھی سوار تھے۔شام کی نماز مکان پر ادا کی۔کھانے کے بعد عشاء کی نماز ہوئی اور پھر حضور نے یہاں کی مجلس مشاورت قائم کی جو رات کے ڈیڑھ دو بجے تک ہوتی رہی۔اس میں خاص خاص بزرگ شریک تھے