سفر یورپ 1924ء — Page 172
۱۷۲ سے جار ہی تھیں دوسرے سٹیشنوں سے خدا جانے کتنی جاتی ہوں گی۔زمین تلے کی ریلوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ قریباً ہر منٹ یا دوسرے منٹ بعد گاڑی آن موجود ہوتی ہے۔سٹیشن پر جا کر کھڑے ہوں تو کوئی گاڑی کھڑی ہوگی یا جاتی نظر آوے گی یا آتی گاڑی کی آواز کان میں پڑے گی۔زمین کے نیچے بھی دو حصوں میں گاڑیاں چلتی ہیں۔ایک تھوڑی گہرائی پر دوسری زیادہ گہرائی پر۔خدا جانے اتنی مخلوق یہاں آ کہاں سے گئی ہے کہ دن رات اس قدر گاڑیاں چلتی ہیں اور چلتی ہی رہتی ہیں۔دوسری سواریوں کی بھرمار : ریل گاڑیوں کے سوا موٹریں ، موٹر لاریاں ، بس اس کثرت سے چلتی ہیں کہ باوجود نہایت اعلیٰ بلکہ اعلیٰ ترین انتظامات اور لوگوں کے واقف کا راور عادی ہونے کے سنا گیا ہے کہ یہاں اوسطاً کے موتیں موٹروں کی وجہ سے روزانہ ہو جاتی ہیں۔بازار کے ایک طرف سے دوسری طرف جانے کے لئے نہایت چوکنا و ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے یا پھر پولیس مین ( جو واقع میں نہایت شریف اور نہایت ہوشیاری سے اپنی ڈیوٹی پر کھڑے ہوتے ہیں ) کے ہاتھ یا انگلی کے اشارے سے انسان سڑک کو عبور کر سکتا ہے ورنہ سڑک کا عبور کرنا کارے دارد۔پولیس مینوں کی تعریف : پولیس مین کیسے ہوشیار را ور فرض شناس ہیں اس کی میں تعریف نہیں کر سکتا۔کاش پنجاب کو بھی ایسی پولیس نصیب ہو۔پولیس مین کے صرف اشارے پر بیسیوں موٹریں فوراً کھڑی ہو جاتی ہیں اور نہیں چلتیں جب تک اجازت نہ دے اور وہ بھی کوئی بے قاعدگی یا جانبداری دبختی نہیں کرتا۔بلکہ نہایت حکمت اور ترتیب سے اِدھر سے اُدھر جانے والی موٹروں کو پاس کرتا ہے اور اپنے فرض کو فرض سمجھتے ہوئے دیانت داری و محنت سے ادا کرتا ہے۔رات کو مکان پر پہنچے اور آرام سے گزاری صبح کی نماز میں حضور تشریف نہ لائے۔۳۰ اگست ۱۹۲۴ء حضرت خلیفہ اسیح کی علالت : ۳۰/اگست کل برائین کے کھانے کی وجہ سے یا کسی اور باعث سے پھر حضور کو پیچش کی شکایت ہوگئی اور حضور صبح کی نماز میں تشریف نہ لا سکے۔ناشتہ بھی حضور نے اپنے ہی کمرہ میں کیا۔دو پہر کے بعد ایک صاحب جو دو کنگ سے تعلق رکھتے ہیں اور غالباً انگلش مسلم ایسوسی ایشن کے سیکرٹری ہیں مکان پر آئے۔حضور سے