سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 150 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 150

متعلق دیکھنا ہوگا جس کے نوٹ حضور نے جہاز میں حافظ صاحب کو لکھائے تھے اور حافظ صاحب نے وہ مضمون مکمل کر لیا ہے۔اس کے بعد ساڑھے کو بجے کا وقت پھر اسسٹنٹ ایڈیٹر کو فوٹو وغیرہ کے واسطے دیا ہوا ہے جس سے فارغ ہو کر آج حضور وزیر اعظم اٹلی سے ملاقات کی غرض سے گیارہ بجے تشریف لے جائیں گے جہاں سے فارغ ہو کر کھانا اور نمازیں ہوں گی۔اس کے بعد برٹش فضل سے ملاقات کا وقت ہے جو کل نہ ہوسکی تھی۔اس کے بعد پھر انشاء اللہ انٹرویو کا سلسلہ جاری ہو گا دوسرے اخبارات کے ایڈیٹروں اور دوسرے شہری لوگوں سے۔۔الغرض حضور کی طبیعت متواتر محنت سے اور سفری کوفت اور کھانے کی بے ترتیبی کی وجہ سے فاقوں ہی کے باعث خراب ہوئی ہے اور اس کا حضور خیال نہیں فرماتے۔ڈاکٹر صاحب بھی بے چارے کڑھتے ہیں مگر کچھ پیش نہیں جاتی۔دوستوں سے سید نا حضرت اقدس کی صحت کے لئے خاص طور پر درخواست کی جاتی ہے کہ ابھی منزل مقصود تو اور آگے ہے۔اصل مقام تو زیادہ محنت مانگے گا یہ تو دوران سفر میں تھوڑے سے کام کا نتیجہ ہے وہاں پہنچ کر تو دن رات ایک کرنا ہوگا لہذا دعاؤں پر خاص طور سے زور دیا جاوے۔روما کی شہریت اس کے بازاروں کی ترتیب اور صفائی۔شہر کی وسعت- تجار کی شاندار دکانات کی کثرت اور پرانی عمارات یا ان کے کھنڈرات- روما کے بڑے بڑے گر جا اور ان میں صنعت و نقاشی اور کاریگری کے بے نظیر عجائبات کچھ ایسی چیزیں نہیں ہیں کہ میں ان کی تفاصیل لکھنی شروع کر دوں۔لکھے پڑھے بزرگ اور دوست حتی کہ طلبا بھی ان امور کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔البتہ کسر رہ جاتی ہے تو صرف اتنی کہ شنیدہ گے یو د مانند دیدہ - واقعی دیکھنے اور سننے میں بڑا فرق ہے اور گوسُن کر جو نقشہ ذہن میں انسان کسی چیز کے متعلق بناتا ہے عموماً بڑا ہی ہوتا ہے، مگر یہاں تو میرے۔خیال میں ۹۰ فیصدی وہ نقشہ دیکھنے کے بعد بھی چھوٹا ہی معلوم ہوگا۔قیاس اور و ہم سے زیادہ بڑھ کر یہ شہر اپنے اندر کمالات فن رکھتا ہے۔ممکن ہے کہ میرا یہ خیال پیرس یا لندن کو دیکھ کر تبدیل ہو جائے مگر اب تک جو کچھ دیکھا میں اس سے اندازہ کر کے کہہ رہا ہوں کہ روما کا شہر اپنے اندر بہت ہی