سفر یورپ 1924ء — Page 149
۱۴۹ تصریح فرمائی کہ اس میں برٹش گورنمنٹ کی اطاعت کا جو ذکر ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ ہند وستان میں برٹش گورنمنٹ کے ماتحت رہتے ہیں مگر اصل ہمارا یہ ہے کہ جس حکومت کے ماتحت رہیں اس حکومت کی اطاعت کریں۔یہ اصل ہمارے امام علیہ السلام بانی سلسلہ نے ہمیں فرمایا ہے۔وہ اُٹھنے کو تھا مگر حضرت شیخ صاحب عرفانی نے اس کو کہا کہ میں ایک اخبار نویس کی حیثیت سے تم کو توجہ دلاتا ہوں کہ عالمگیر صلح کے متعلق بھی حضرت سے ایک سوال کر لو۔اس پر اس نے سوال کیا کہ (۴۱) عالمگیر صلح کس طرح سے ممکن ہے۔جواب میں حضور نے مذہب اور سیاست کے لحاظ سے عالمگیر صلح کے اصول بیان فرمائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام جو اللہ تعالیٰ نے امن و صلح کا شاہزادہ رکھا ہے اس کا تفصیل سے ذکر فرمایا جس کو اس نے اردو رومن میں لکھ لیا۔اس پر حضور نے مفصل تقریر فرمائی اور آئندہ دنیا کے امن اور مستقل صلح کی بنیاد کے قیام کو سید نا حضرت مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات سے وابستہ ہونے کا اعلان فرمایا۔اس کی درخواست پر حضرت نے کتاب تحفہ شاہزادہ ویلیز پر اپنے قلم سے دستخط فرمائے جس کا اس نے شکریہ ادا کیا اور پھر دوسرے دن صبح ساڑھے نو بجے فوٹو کے لئے وقت مقرر کر کے چلا گیا۔۱۲ بجنے کو تھے حضور نے نماز میں پڑھا ئیں اور پھر آرام فرمایا۔حضور کی طبیعت ابھی تک پیچش وغیرہ تکالیف سے صاف نہیں ہوئی۔تکالیف برابر ہیں مگر افاقہ ضرور ہے مگر با ایں ہمہ اپنے آرام اور صحت کو سلسلہ کی تبلیغ اور اشاعت اسلام پر قربان فرماتے ہوئے بہت ہی سخت محنت فرمارہے ہیں۔کل صبح سے عصر تک ڈاک لکھی۔عصر کے بعد سے شام تک بازار کی سیر کو گئے۔شام سے لے کر ۱۲ بلکہ ایک بجے رات تک اسٹنٹ ایڈیٹر کے ساتھ گفتگو فرماتے رہے اور حق تبلیغ اس طرح ادا فرمایا کہ مرکز عیسائیت ، قصر شرک وکفر اور خود پوپ کے گو یا گڑھ اور قلعہ ہی میں بیٹھ کر تمام اٹلی میں اعلان حق کا فرض ادا فر ما دیا -اللهم زدفرد- دوائی برابر استعمال کروائی جارہی ہے۔آج صبح کو ۸ بجے مجھے حاضری کا حکم ہے تا کہ حضور وہ مضمون پورا کرا دیں جو حضور نے سفری رپورٹ کے طور پر لکھوانا شروع کرایا ہوا ہے۔اس کے بعد حافظ صاحب کا مضمون تصوف کے