سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 130 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 130

اسٹیشنوں پر ٹھہرتی ہے وہ بھی صرف چند سیکنڈ۔کھانے اور پانی کا گاڑی میں کوئی انتظام نہیں ہوگا نہ ہی گاڑی میں پاخانہ پیشاب کے لئے کوئی جگہ مقر رسنی جاتی ہے۔۱۲ گھنٹہ کا رن (run) ہے۔واقف لوگ کہتے ہیں کہ کھانے کا سامان ایک لفافہ میں ساتھ لے لو اور ایک ایک بوتل سوڈے کی بھی ساتھ رکھ لو ورنہ راستے میں تکلیف ہو گی مگر وہ نہیں جانتے کہ کھانے اور پینے کے بغیر تو ہمارا گزارا ہو بھی جائے گا مگر نماز کے واسطے ہم کو پانی کی جو ضرورت ہوگی وہ کہاں سے پوری کریں گے۔عجیب ملک ہے جس کی گاڑی میں ٹی اور غسل خانہ کا بھی انتظام نہیں۔دمشق کے وکٹور یا ہوٹل میں حضرت اقدس نے ایک رات کاٹی تھی۔میں اس کے کمرہ کا نمبر نہ لکھ سکا تھا کیونکہ میں وہاں گیا نہیں تھا اور جو دوست گئے تھے ان میں کسی کو کمرہ کا نمبر یاد نہ تھا۔آج دورانِ سفر روما میں قبلہ خان صاحب ذوالفقار علی خان صاحب کی مہربانی سے معلوم ہوا کہ حضرت اقدس کمرہ نمبر ۴۵ میں اور خدام اور حضرت میاں صاحب کمرہ نمبر ۴۶ میں شب باش ہوئے تھے۔۱۷ اگست ۱۹۲۴ء : گاڑی ساڑھے نو بجے روما سٹیشن پر پہنچی۔حضرت اقدس گرانڈ کانٹی نینٹل ہوٹل میں ٹھہرے۔حضور کا کمرہ نمبر ۱۰ ہے۔ہوٹل بالکل سٹیشن سے متصل ہے۔خان صاحب اور ڈاکٹر صاحب کمرہ نمبر 9 میں ہیں۔باقی خدام سامان لے کر اور ہوٹلوں کی تلاش میں ایک گھنٹہ تک پھرتے رہے۔آخر کار ایک بڑے وسیع چوک میں ایک ہوٹل ٹرمیٹس نامی میں ٹھہرے۔جس کی مینجر عورت اور خادمات بھی عورتیں ہی ہیں۔اس کے سامنے بڑا وسیع اور شاندار چوک ہے جس کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا فوارہ چلتا ہے جس کا پانی دوسہ منزلہ عمارت کے برابر اونچا جاتا ہے۔حوض اور چبوترہ خوبصورت ہے مگر بڑا گند یہ ہے کہ عین بیچوں بیچ میں ایک ننگے آدمی کی تصویر معلوم ہوتی ہے جس نے کچھ اُٹھایا ہوا ہے اور اس میں سے فوارہ گزرتا ہے۔اس کے نیچے چاروں طرف چارنگی عورتوں کی تصاویر ہیں جن پر مختلف فواروں کا پانی پڑتا ہے۔تصاویر کے ننگا ہونے کی وجہ سے نظر تک نہیں سکتی اور حیا اس کی خوبصورت صنعت کو بھی دیکھنے میں مانع ہو جاتی ہے اس وجہ سے میں اس کی ساری کیفیت بیان نہیں کر سکتا بلکہ