سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 119 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 119

119 پھر بھی مغلوب رہو گے میرے تا یوم البعث ہے تقدیر خداوند کی تقدیروں سے ماننے والے میرے بڑھ کے رہیں گے تم سے یہ قضا وہ ہے جو بدلے گی نہ تدبیروں سے مجھ کو حاصل نہ اگر ہوتی خدا کی امداد کب کے تم چھید چکے ہوتے مجھے تیروں سے ایک تنکے سے بھی بدتر تھی حقیقت میری فضل نے اس کے بنایا مجھے شہتیروں سے تم بھی اگر چاہتے ہو کچھ تو جھکو اس کی طرف فائدہ کیا تمہیں اس قسم کی تدبیروں سے نفس طامع بھی کبھی دیکھتا ہے روئے نجات فتح ہوتے ہیں کبھی ملک بھی کفگیروں مرے قتل کو نکلے تو ہو غور کرو پر شیشے کے ٹکڑوں کو نسبت بھلا کیا ہیروں سے جن کی تائید میں مولی ہو انہیں کس کا ڈر کبھی صیاد بھی ڈر سکتے ہیں مچھیروں ހނ حضرت اقدس نے جو مضمون المقتبس کے لئے لکھا ہے اور زبان عربی اور انگریزی میں اس کا ترجمہ کر وایا ہے اس میں علاوہ حضرت کی مختصر سوانح کے سلسلہ کے حالات اور جماعت کے اختلاف کی تاریخ بھی درج ہے۔یہ تبلیغ سلسلہ کے لئے ایک مکمل تاریخی مضمون کا کام دے سکتا ہے۔