سفر یورپ 1924ء — Page 101
1+1 صاحب اور عرفانی صاحب تین ایڈیٹروں کو مل آئے ہیں جن میں سے دو سے امید ہے کہ وہ ضرور حالات اور اطلاعات درج اخبار کریں گے۔۱۲ / اگست ۱۹۲۴ ء روانگی از حیفا گاڑی سے : حیفا سے گاڑی قطرہ کو جا رہی ہے۔خط لکھنے کی کوشش کرتا ہوں مگر لکھا جاتا کچھ نہیں۔خیالات اور یادداشتیں پراگندہ ہوگئی ہیں کیونکہ ہمارے عرفانی صاحب اور چوہدری فتح محمد خان صاحب دونوں گاڑی سے رہ گئے ہیں ان کے پاس پیسہ ہے نہ کپڑا۔پاسپورٹ ہے نہ راہداری - تنگ وقت میں بہائیوں کے ہاں گئے تھے واپس نہ پہنچ سکے حالانکہ ان کو علم تھا کہ وقت بالکل تنگ ہے اور حضرت اقدس نے کتابیں لے کر جانے کا حکم دیا تھا وہ بھی ان کو نہ ملی تھیں کیونکہ وہ بکس جن میں وہ کتب تھیں بک کرا دیا جا چکا تھا مگر افسوس کہ وہ دونوں بزرگ چلے گئے اور پھر واپس نہ آسکے۔آج دن بھر میں اور کوئی گاڑی نہیں آئے گی ۲۴ گھنٹے بعد ایک گاڑی چلتی ہے۔اگر جہاز پورٹ سعید سے ان کی خوش قسمتی سے لیٹ ہوا تین دن تو شاید پہنچ جاویں اور نہ کوئی صورت نہیں -اناللہ وانا اليه راجعون کل موٹر کے سفر میں حضرت اقدس کی طبیعت بہت ہی خراب رہی۔دس بارہ مرتبہ حضور کو دست بھی آئے۔حضرت اقدس کا منشا تھا کہ اگر قفصل جنرل کو پورٹ سعید سے تار کا جواب متعلق پلسنا جہاز آجاوے تو دو چار دن بیروت میں ٹھہر جائیں تا کہ بیماری سے آفاقہ بھی ہو جائے اور صحت اچھی ہو کر کچھ کام تبلیغ کا ہو جائے کیونکہ ایک خط سے معلوم ہوا تھا کہ ۱۱ رکو جہاز پورٹ سعید سے روانہ ہونے والا ہے اور اسی انتظار میں حضرت اقدس نے ساڑھے تین بجا دیئے۔آخر مجبوراً جب ساڑھے تین بجے تک بھی تار کا کوئی جواب نہ آیا تو حضور تین موٹروں کے ذریعہ بیروت سے حیفا کو روانہ ہو گئے۔تین موٹروں کا کرایہ ۱۶ پونڈ مقرر ہوا۔نماز ظہر و عصر حضور نے راستہ کے ایک تکیہ میں ادا کی اس وقت تینوں موٹر ا کٹھے تھے۔حضور کی طبیعت بہت ہی مضمحل تھی اور حضور نے اس کا اظہار بھی کیا۔( ڈاکٹر صاحب نے دوائی بنائی اور چوہدری علی محمد کے ذریعہ سے پیش کی مگر حضور نے نہ قبول فرمائی۔چہرہ سے آثار نا راضگی بھی نظر آتے تھے ) آخر چلتے چلتے فریج سرحد میں پہنچے جہاں پاسپورٹ دکھانے پڑے اور پھر سب موٹر میں اکٹھی ہو گئیں۔حضور کی طبیعت اسی طرح مضمحل تھی۔وہاں سے فارغ ہو کر تھوڑی ہی دور پر پھر برٹش