سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 97 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 97

۹۷ آبادی۔موسم کے لحاظ سے شملہ۔نیچے بڑی وسیع اور طول طویل آبادی اور سبزہ نظر آتا تھا۔عمارت بہت خوبصورت اور صاف۔آبادی غالباً یہود اور نصاری کی زیادہ تھی۔انگور کے کھیت میلوں میل تک ان علاقہ جات میں پائے جاتے ہیں۔ہمارے ملک میں جس طرح تربوز کے کھیت ہیں تربوز کی بیلیں کھیتوں میں پھیلی ہوئی ہیں قریباً اسی طرز پر یہاں کھیتوں میں انگور کی بیلیں ہیں جن کو لکڑیوں کا سہارا دے کر زمین سے ذرا اونچا کر دیا گیا ہے تا کہ انگور کے خوشے لٹکے رہیں۔بہت ہی بہتات اور کثرت ہے انگور کی۔بعض جگہ لمبوترے پتھروں کا سہارا دیا ہوا ہے۔اس سے پہلے سٹیشن پر چنے کے بونٹ (ڈڈے) بکتے نظر آئے ہیں جن کو اکثر جنٹل مینوں نے بڑے شوق سے ہاتھوں ہاتھ لیا اور کھاتے گئے۔موٹر کار دمشق سے بیروت ۳ گھنٹہ میں پہنچاتی ہے موٹر لاری ۵ گھنٹہ میں اور ریل آٹھ گھنٹہ میں۔موٹر کار بہت زیادہ چلتی ہیں مگر سڑک اچھی نہیں۔آبادی اس نواح میں زیادہ ہے۔سٹیشن دودو تین تین میل پر آ جاتے ہیں۔عین صوفر سے دوسر اسٹیشن بحمدون آیا جو بمشکل دو میل دور ہو گا مگر آبادی مسلسل چلی گئی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقام خاص طور پر صحت افزا ہے۔برلب سڑک ریل۔کثرت سے لوکندے ( ہوٹل ) لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں۔اس ریلوے میں بڑا نقص یہ ہے کہ فرسٹ سے لے کر تھرڈ کلاس تک کسی میں بھی پاخانہ پیشاب کی جگہ نہیں رکھی گئی۔تعجب کی بات ہے ۸ گھنٹہ کا متواتر سفر اور ان ضروریات کے واسطے کوئی جگہ نہیں غالباً ان لوگوں کو ضرورت ہی نہ پڑتی ہو گی۔گاڑی کھڑی ہوئی اُترے اور کھڑے کھڑے پیشاب کر لیا۔ہم لوگوں کو تو سخت مشکل اور دقت کا سامنا ہوا ہے۔توت کو خاص طرز میں کثرت سے کاشت کیا گیا ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ریشم کے کیڑے ان علاقہ جات میں پالے جاتے ہیں۔دمشق کا پولیس مین ریاق کے اسٹیشن سے بدل گیا وہ تمام راستہ حضور کی گاڑی کے پائیدان پر کھڑا آیا تھا۔ریاق سے دوسرا پولیس سارجنٹ اس خدمت پر مامور ہو کر ساتھ ہوا مگر اس کو وہ معلومات نہ تھے جو پہلے کو تھے۔آرام سے گاڑی میں ساتھ سفر کرتا چلا آ رہا ہے۔