سفر یورپ 1924ء — Page 84
۸۴ ہیں کیونکہ مولوی صاحب کے جانے سے بحث کا رنگ نہیں رہا۔حکومت کی طرف سے بھی ایک حکم اس مضمون کا آ گیا ہے کہ بحث مباحثہ کے واسطے کوئی مکان سوائے ہوٹل کے تجویز کیا جاوے ہوٹل میں بحث مباحثہ کی اجازت نہیں ہے۔ان باتوں کا حضرت حافظ صا حب نے اعلان کر دیا ہے کہ صاحب لوکندہ ( مالک ہوٹل ) نے منع کر دیا ہے کہ یہاں مجمع نہ ہو اس وجہ سے ہم معذور ہیں کیونکہ اب کچھ بات کرنے کی اجازت نہیں ہے اور یہ آپ لوگوں کے مولویوں کا قصور ہے ورنہ یہ روک کھڑی ہوتی نہ ہم سنانے سے تھکتے۔ایک سفید پوش ڈاکٹر جس نے توفیق ایوبی کو ذلیل کیا اور جھاڑ دیا تھا خدا نے بھیج دیا تھا ور نہ مولوی بہت ہی بکواس کرتا تھا۔وہ چاہتا تھا کہ حضرت اقدس کی بے ادبی کرے مگر خدا نے اس کو ذلیل کیا اور اس طرح بھی عبد مکرم کا الہام پورا ہوا۔بازار میں ہوٹل کے نیچے اس قدر مخلوق کھڑی تھی کہ الامان الحفیظ - پولیس ہم سے کہتی ہے کہ وہ لوگ ہجوم کر کے آپ لوگوں کے خلاف آئے ہیں۔مولویوں نے ان کو اکسایا ہے اور وہی جمع کر کے لائے ہیں اور کہ وہ دروازہ محض اس وجہ سے توڑنے کی کوشش کرتے ہیں کہ آپ لوگوں پر حملہ کریں اور کہ ہم بغرض حفاظت بھیجے گئے ہیں مگر خدا کی شان ہے مولوی کس نیت سے آئے ہیں اور خدا کیا سامان پیدا کرتا ہے۔انی مهین من اراد اهانتک والا معاملہ ہے۔اصل یہ ہے کہ پولیس خودا اپنی ذمہ داری کی وجہ سے خوفزدہ تھی اور ہم کو کمرہ سے باہر نہ نکلنے کی تاکید اسی وجہ سے کر گئے ہیں۔حلب کا مدیر بھی اس وقت بہت کام آیا۔کھڑا ہو گیا اور کہا کہ علماء جہلاء نے کیا حرکات شروع کی ہیں۔حضرت اقدس نے ہوٹل کی بالائی منزل کے تیسری منزل کے کمرے کے ورانڈہ ( گیلری ) سے نیچے کے ہجوم کو جھانکا اور ان کو السلام علیکم کہا۔ان لوگوں نے وعلیکم السلام عرض کیا اور کسی نے کوئی نازیبا حرکت نہیں کی۔میرا تو یہی خیال ہے کہ یہ لوگ صرف حضرت اقدس کو دیکھنے اور باتیں سننے کو آئے تھے۔جب ہوٹل والوں نے روکا تو وہ اور بھی جوش میں آئے اور اندر آنے کی کوشش کی الانسان حریص لما منع عنه - روک نے ہی یہ نقشہ پیدا کر دیا تھا۔یہ