سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 52 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 52

۵۲ ہیں۔عکہ میں یہ لوگ نماز مسجدوں میں جا کر ادا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ان لوگوں کے حالات بالکل منافقانہ اور غیر معززانہ ہیں۔کوئی شہرت کوئی وقعت واہمیت ان کو یہاں نہیں دی جاتی اور معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تباہی کے سامان پیدا کر دیئے ہیں اور انشاء اللہ وہ دن دُور نہیں کہ اس فرقہ ضالہ کی حقیقت کا انکشاف ہو کر دنیا میں اس کی رسوائی اور ایسی ذلت ہو کہ پھر یہ کفر کبھی سر نہ اٹھا سکے۔اللہ کرے ایسا ہو۔عکہ گوا بھی حضور نے دیکھا نہیں کیونکہ حضور کی طبیعت اچھی نہ تھی اس وجہ سے صبح نہ جا سکے مگر ارادہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ دمشق سے واپسی پر موقع دے تو ضرور دیکھا جائے۔عکہ حیفا سے موٹر کے ذریعہ صرف ۲۰ منٹ کا راستہ ہے اور ساحل سمندر پر واقع ہے۔پورٹ اور بندرگاہ ہے۔گاڑی میں سے نظر آتا تھا اور ریل بھی وہاں جاتی ہے۔حیفا سے ساڑھے دس بجے صبح کے روانہ ہوئے اور شام کو ساڑھے آٹھ بجے صبح دمشق پہنچے۔حیفا سے چل کر راستہ میں جلیل ( گلیل) کی پہاڑیاں پڑتی ہیں جو حضرت مسیح ناصری کی خاص طور پر یاد دلاتی ہیں۔ناصرت بھی راستہ میں آتا ہے اور ناصرت کے قریب سے ریل گزرتی ہے۔میدانوں میں عرب کے قبائل کے پرانی اور قدیم طرز کے سیاہ بالوں کے خیمے دیکھنے میں آئے اور پرانے زمانہ کی یاد آنکھوں کے سامنے پھر گئی۔قبائل بالکل ننگے میدانوں میں خیمہ زن تھے۔عورتیں اور بچے خیموں میں نہایت خوشی اور بے فکری سے اِدھر اُدھر چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔بعض بچے گاڑی کو دوڑتے دیکھ کر گاڑی کے ساتھ ساتھ دوڑنے کی مشق کرتے حتی کہ بعض بڑے بڑے آدمی بھی اسی طرح کرتے دیکھے گئے۔اونٹ سُرخ ، اونٹ سفید، بھیڑ، دنبے اور بکریاں کثرت سے میدانوں میں پھرتی نظر آتی تھیں۔ان کے ساتھ راعی عموماً ایک گدھے پر سوار نظر آتا تھا جس کے ساتھ ساتھ ایک کتا بھی رہتا تھا۔نہایت سرسبز حصے میدانوں کے جن میں خریف اور ربیع دونوں فصل برابر برابر کھڑے نظر آتے تھے یعنی گیہوں کے کھیت بھی بعض جگہ ابھی کھڑے تھے اور اکثر جگہ کاٹے جاچکے تھے۔بعض جگہ غلہ نکل چکا تھا اور اکثر جگہ ابھی غلہ نہ نکلا تھا اور ساتھ ہی مکئی ، جوار، تل اور چنے کے سبز کھیت موجود تھے۔ان سرسبز میدانوں کو عبور کرتے کرتے اور انجیر، انگور اور سیب سٹیشنوں پر سے ارزاں تر خرید تے