سفر یورپ 1924ء — Page 507
۹ لئے ہاتھ اٹھائے خدام کا حلقہ بھی دست بدعا ہوا۔اس کے بعد ایک اور حلقہ تھا جس میں اور لوگ تھے۔سٹیشن پر فوٹو : دعا کے بعد حضور سٹیشن پر سے باہر کی طرف بڑھے۔خدام ہمرکاب دائیں بائیں تھے۔سٹیشن کے باہر سیٹرھیاں حضور اترتے تھے کہ فوٹوگرافر کی درخواست پر حضور ایک منٹ کے لئے ٹھہر گئے۔خدام کے ساتھ بعض دوسرے لوگ بھی شامل تھے۔ان کا بھی غالبا فوٹو آ گیا ہوگا۔سٹیشن سے روانگی : فوٹو کے بعد حضور موٹر میں بیٹھ کر تھوری دی ٹھہرے رہے کیونکہ سامان چیک کر کے گاڑیبان کے حوالہ کیا جا رہا تھا۔جب اس طرف سے فارغ ہو چکے تو حضور مع خدام شیخ محمود احمد صاحب کے مکان پر پہنچے۔شیخ محمود احمد صاحب جس مکان میں رہتے ہیں اس مکان کا کچھ اور حصہ تین دن کے لئے انہوں نے لے لیا جو حضرت صاحب کی وجہ سے خدام یا ملاقاتیوں کے لئے رکھا گیا تھا۔مکان میں کرسیاں اور کا وچ لگے ہوئے تھے اور حتی الوسع صفائی کا بھی انتظام کیا ہوا تھا۔شیخ محمود احمد صاحب : شیخ صاحب اللہ تعالیٰ کے فضل سے قاہرہ میں بہت ہی کارآمد ثابت ہوئے اور زبان دان ہونے کی وجہ سے کئی قسم کی سہولتیں ان کے وجود سے میسر ہوئیں۔علماء سے ملاقات : مکان پر پہنچنے کے چند منٹ کے بعد چار علماء حضور کی ملاقات کے لئے آئے۔جن سے سلسلہ کلام عربی زبان میں شروع ہوا۔مسئلہ خلافت کے متعلق گفتگو جاری رہی اور آدھ یا پون گھنٹہ کے قریب یہ نشت قائم رہی۔جس میں حضرت صاحب حافظ روشن علی صاحب اور شیخ عبد الرحمن صاحب مصری نے مسئلہ خلافت کے متعلق علماء کو مسلمانوں کی غلطیاں ٹھوکریں اور تلون بتایا اور پھر اپنا عقیدہ وضاحت سے سنایا۔ان باتوں کو سن کر وہ لوگ خوش ہوئے شکر یہ ادا کیا اور کہا کہ آپ لوگوں کی محبت ہمارے دلوں میں گھر کر گئی ہے۔آپ نے جو اعزاز ہمیں بخشا ہے اس کے ہم شکر گزار ہیں۔کل پھر کسی وقت حاضر ہوں گے۔جب حضور موقع دیں حاضر ہوں اور چلے گئے۔مصر میں اخراجات : مصر میں عام نظر سے انگریزیت ہی کا غلبہ نظر آتا ہے۔اخراجات سن کر حیرانی ہو جاتی ہے۔پورٹ سعید کے ہوٹل میں شب باشی کے اخراجات سے ڈر کر قاہرہ میں مکان لیا تھا۔کھانے کے واسطے روٹی تنور سے منگائی گئی کہ خرچ کم ہو مگر صرف سالن جو بازار سے منگایا گیا اور