سفر یورپ 1924ء — Page 504
۶ خلاصہ یہ ہے ہم مایوسی کے دشمن ہیں مگر ہم زندگی کو بنی اور کھیل کے لئے بھی بنانا نہیں چاہتے۔ہاں اعتدال کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں۔ہم لوگ وقار اور وضعداری سے رہنا چاہتے ہیں اور مذہبی زندگی کے ساتھ ہی خوش ہیں۔ہماری ساری خوشی خدا میں ہے اور اس لئے ہم ہمیشہ خوش ہیں۔اگر آپ مذکورہ بالا امور کو اپنے قواعد میں داخل کر لیں تو ہم اکٹی بن جائیں گے ورنہ ہم ہرگز اکٹی نہیں۔ہم شراب نہیں پیتے اگر تم ہمیں شراب کے خلاف اپنے ممبروں میں وعظ کرنے کی اجازت دو تو ہم اکٹی ہو جائیں گے ورنہ ہم بالکل اکٹی نہیں۔کوئی طلسم ہمارے نز دیک نہیں۔کوئی تصویر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاتھ کی نہیں ہے۔یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ہم مذہبی آدمی ہیں۔ہم ہاتھ نہیں اٹھاتے ہم لو وقار رکھنے والے ہیں۔ہاتھ کا اٹھانا وقار کے خلاف ہے۔پورٹ سعید پہنچنا : ۲۸ / جولائی کو نہر سویز میں کوئی جہاز نہ تھا اور حسنِ اتفاق سے ہمارا ہی جہاز تھا۔اس لئے کوئی روک پیدا نہ ہوئی اور جہاز ہمارا جلدی جلدی سے نہر سویز پار ہو گیا اور آٹھ بجے سے بھی پہلے پورٹ سعید کے پانیوں میں آکھڑا ہوا۔یہاں فوراً قلی چلتے جہاز میں داخل ہو گئے اور سامان اتار نے اور مکان پر پہنچانے کے لئے مسافروں سے بات چیت کرنے لگے۔ہم لوگ چونکہ اس ملک کے حالات سے واقف نہ تھے ہمیں ضرور کوئی تکلیف ہوتی یا دیر گتی مگر ٹامس لک کے آدمی آن پہنچے جن سے بات چیت کرنے میں شیخ محمود احمد نے بڑی ہوشیاری دکھائی۔سامان گن کر ان لوگوں کے حوالہ کر دیا اور وہ تمام سامان جہاز پر سے رسوں کے ذریعہ سے قلیوں نے فوراً نیچے کھڑی کشتیوں میں بھر کر بھوپارہ کی طرف روانہ کر دیا۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح دوسروں کا انتظار کرتے رہے اور جہاز کے افسر حضور سے الوداعی سلام عرض کرتے رہے۔ایک بنگالی تاجر جو کہ بائیسکلوں کا بڑا تاجر ہے اور فرسٹ کلاس کا مسافر تھا حضور کے سامنے میز پر بیٹھا کرتا تھا۔آخری دنوں میں حضرت صاحب کو اس کے ساتھ بہت انس ہو گیا اور حضور نے جہاز کے سفر کی آخری گھڑیاں اس سے بات چیت کرنے میں صرف کیں۔حضور نے اس کو بہت تبلیغ کی اور اللہ کے حوالے کیا۔نہر سویز کی خوبصورتی : نہر سویز کو بہت ہی خوبصورت بنانے کی کوشش کی جارہی ہے بھی کہ بعض مقامات ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا کسی بڑے شہر کی مال روڈ ہے جس پر جہاز گذر رہا ہے خصوصاً پورٹ سعید کے قریب کے کنارے تو بہت ہی خوبصورت ہیں۔