سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 474 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 474

۴۷۴ اللہ کریم ان کی سعی کو سعی مشکور بنائے آمین۔حضور نے نمازیں پڑھائیں۔نماز کے لئے کھڑے ہوتے وقت میں نے احباب کے لئے دعاؤں کی پھر درخواست کی کیونکہ آج کی رات آخری رات ہے جو اس سفر سمندر میں ہمیں آئی ہے چنانچہ حضور نے شام کی نماز کے التحیات میں اور عشاء کی نماز کی دوسری رکعت کے پہلے سجدے میں بہت دعائیں کیں اور یہ سجدہ بہت ہی لمبا ہوا۔آج عشاء کی نماز میں عجیب واقع ہوا۔سلام کے بعد میں نے عرض کیا حضور ایک ہی رکعت ہوئی ہے۔حضور نے فرمایا دو رکعت ہوئی ہیں۔مجھے خوب یاد ہے کیونکہ میں نے ارادہ کیا تھا کہ عشاء کی پہلی رکعت کے سجدہ میں دعا کروں مگر جلدی سے کھڑا ہو گیا اور دعا نہ کی گئی جس کا مجھے افسوس ہوا اور میں نے نیت کی دوسری رکعت کے پہلے ہی سجدہ میں دعا کرلوں تا کہ ایسا نہ ہو کہ دوسرے سجدہ میں کرنے کے خیال سے پہلے میں نہ کروں اور پھر دوسرے میں بھی موقع نہ ملے اور پھر مجھے یاد ہے کہ میں نے عشاء کی نماز کی دونوں سورتیں۔والضحی اور والتین پڑھی ہیں“۔حضور کے فرمانے سے میں نے سمجھ لیا کہ مجھے غلطی لگی ہوگی مگر دل پر بوجھ رہا کہ صرف ایک ہی رکعت پڑھی گئی ہے۔حافظ روشن علی صاحب نے عرض کیا کہ حضور مجھے بھی یہی یقین ہے کہ ایک ہی رکعت پڑھی گئی ہے۔چوہدری محمد شریف صاحب نے عرض کیا کہ مجھے بھی ایک ہی پڑھی جانے کا یقین ہے۔شیخ عبد الرحمن صاحب مصری نے بھی یہی کہا۔نیر صاحب نے کہا کہ رکعت تو ایک ہی ہوئی ہے مگر سورتیں دونوں پڑھی گئی ہیں۔اسی طرح عرفانی صاحب بھی مذبذب تھے کہ ایک ہی پڑھی گئی ہے۔باقی دوست کہتے تھے کہ دو پڑھی گئی ہیں۔جس وثوق اور یقین سے حضرت اقدس نے دو پڑھنے کا یقین ظاہر فرمایا اس کی عظمت ادب اور احترام کی وجہ سے ہم لوگ اپنی غلطی کے مقر ہیں ورنہ خیال یہی ہے کہ ایک ہی رکعت پڑھی گئی ہے۔بہر حال دیر تک حضور اس کے متعلق باتیں کرتے رہے اور پھر فرمایا کہ مجھے تو دو پڑھنے پر ایسا یقین ہے کہ لو میں تو یہ جارہا ہوں اور تشریف لے گئے ہیں۔اللہ کریم حضور کے ساتھ ہو آمین۔جہاز کے ملازموں اور خادموں وغیرہ کو انعامات وغیرہ آج تقسیم کر دئیے گئے ہیں۔جہاز