سفر یورپ 1924ء — Page 472
۴۷۲ نعمت نزول نعمت۔حضور ابھی تشریف لائے تھے۔آج ہمارے ہاں مشاعرہ ہو رہا ہے یعنی شعروں کا میچ۔حضور نے فرما یا مشاعرہ ہے یا شعر بازی؟ اور دو چار منٹ ٹھہر کر پھر تشریف لے گئے۔رحمد بن بھی اُٹھا ہے۔کچھ کھایا ہے اور اب نسبتاً آرام بتاتا ہے۔ہوا بھی مدھم پڑ چکی ہے اور رولنگ اور پیچنگ میں بھی کمی واقع ہو گئی ہے۔آج شام کو دعوت تھی وہ بھی حضور نے رحمدین کی بیماری کی وجہ سے ملتوی فرما دی۔صرف مٹھائی بادام کی بنائی تھی اسی پر اکتفا فر مایا اور فرسٹ اور سیکنڈ کلاس مسافروں میں تقسیم فرمائی ہے۔تارجس کا حضور نے کل ذکر فر مایا تھا کہ قادیان دیں گے اب تک تو دی نہیں یا کم از کم ہمیں اس کا علم نہیں ہو سکا۔- حضور کھانا کھانے کے بعد سے شام کے قریب تک باہر تشریف نہ لائے۔نماز کے لئے عرض کیا تو فر ما یا ٹھہرو میں آتا ہوں۔دیر ہوتی دیکھ کر بعض نے نماز پڑھ لی۔دوبارہ عرض کیا تو نہ بولے۔سہ بارہ عرض کیا تو فرمایا کہ کہا جو ہے آتا ہوں۔عصر کی نماز کا وقت تنگ ہو رہا تھا کہ تشریف لائے۔نمازیں پڑھائیں اور لمبی پڑھائیں۔دعاؤں کا خوب موقع ملتا رہا۔خصوصاً سجدات میں اور نمازوں کے بعد پھر معاً ہی تشریف لے گئے۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور دعاؤں میں لگے ہوئے تھے یا قادیان کے لئے کوئی پیغام لکھ رہے تھے۔غرض کسی اہم ضروری کام میں مصروف تھے اور واپس کمرہ میں تشریف لے جا کر بھی مصروف ہی ہیں جب کہ نماز پڑھا کر تشریف لے گئے ہیں۔اب تک کہ ۹ بج چکے ہیں تشریف نہیں لائے۔نمازوں کے بعد ڈاکٹر صاحب دوائی لے کر گئے۔حضور کو تلاش کر کے پہنچائی مگر حضور نے نہ پی۔جہاز میں آج کا دن آخری دن تھا اور یہ رات آخری رات۔ہم لوگ آپ سب کے لئے دعائیں کرتے ہیں۔اللہ کریم ہماری بھی سنے اور آپ لوگوں کی بھی سنے اور ہم سب کو اپنے دین کا پکا عامل اور سچا خادم بنا دے۔بچے علوم صالح اعمال کے زیور سے ہم سب کو آراستہ فرمائے اور اشاعت ( دین ) اور خدمت خلق کی توفیق دے کر ہم سے وہ کام لے جو اس کی رضا کا موجب ہو اور ہم کو ایسا بنا دے جیسا کہ سیدنا حضرت مسیح موعود اور حضور کے خلفا ہم کو بنانا چاہتے ہیں۔ہم سب اس کے ہو جائیں اور وہ ہمارا