سفر یورپ 1924ء — Page 466
فرما یا بعینہ ہم میں سے اکثر کی یہی حالت تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے فضل کئے اور فتوحات کے دروازے کھول دیئے تو وہ گویا ایک حاکمانہ رنگ میں رنگین ہو گئے اور بعض اوقات بالکل مالکانہ رنگ میں ناراض ہو کر کہا کرتے تھے کہ فلاں اخبار نے یہ کام یوں کیوں نہیں کیا یہ کیوں کیا ہے۔الغرض دیر تک اسی قسم کے اذکارفرماتے رہے اور شکریہ کرتے رہے اور ساتھیوں کو عملاً بھی شکر نعمت کا سبق دیا۔شام اور عشاء کی نمازیں حضور نے خود جمع کر کے پڑھا ئیں اور پھر کھانے کے بعد تشریف لائے۔ایک عیسائی عورت ڈیک پسنجر ہے وہ حافظ صاحب سے عربی میں گفتگو کر رہی تھی۔حضور نے بھی کچھ مخاطبہ فرمایا اور اس کے مذہب کے متعلق چند سوالات انگریزی میں اس سے کئے اور آدھ گھنٹہ بعد پھر اندر تشریف لے گئے۔۱۵/ نومبر ۱۹۲۴ء : صبح کی نماز میں حضور تشریف نہ لائے ناشتہ کے وقت تشریف لائے۔دوائی پی ناشتہ کیا اور خان صاحب کے جواب میں فرمایا! طبیعت تو اچھی ہے مجھے کسی نے جگایا ہی نہیں۔( ڈاکٹر صاحب جگانے گئے تو تھے مگر حسب ہدایت بہت آہستگی سے کھٹکھٹایا اور چلے آئے ) حضور ناشتہ کے بعد سے بیٹھے ہوئے ہیں اور پہلے قادیان میں طاعون کی بیماری کا ذکر ہوتا رہا۔اب پیغام پارٹی کے جلسہ اور ان کی حکمت عملیوں اور چلا کیوں کا ذکر ہورہا ہے اور باری باری اکثر کے نام بعض اذکار پر ساتھ آ رہے ہیں۔شیخ محمد نصیب کا نام بھی آیا ہوا ہے اور اس کی کمینہ حرکات اور زر پرستی کے کارنامے پڑھے جا رہے ہیں۔اللہ کریم ان لوگوں پر رحم کرے کیوں خدا کے برگزیدہ کی مخالفت میں ایمان سے بھی نکلے جار ہے ہیں۔ابتدائی فتنہ کے گمنام ٹریکٹ، خلافت احمدیہ، بعض لوگوں کی شہادت اور مرہم عیسی وغیرہ کے بھی اذکار ہو رہے ہیں مگر آخر ان کے حق میں دعا ہی فرماتے ہیں کیونکہ آخر کبھی صالح تھے۔۱۲ بجے سے پہلے ہی حضور تشریف لے گئے اور کھانے سے پہلے ایک مرتبہ پھر تشریف لائے اور تھوڑی دیر ٹھہر کر پھر کھانے کے لئے تشریف لے گئے۔کھانے میں آج حضور کو ہمارے ہاں کا پکا ہوا سالن جو روزانہ ایک پلیٹ بھیجا جایا کرتا ہے ملازموں نے نہ دیا اور اپنا پکایا ہوا سالن دے دیا