سفر یورپ 1924ء

by Other Authors

Page 464 of 525

سفر یورپ 1924ء — Page 464

۴۶۴ ناشتہ کے وقت تشریف لائے دوائی پی۔ناشتہ بھی کچھ برائے نام ہی کیا اور پھر جلدی ہی اندر تشریف لے گئے۔گیارہ بجے کے قریب پھر تشریف لائے اور تھوڑی دیر تک ٹہلتے رہے۔آج جمعہ ہے حضور نے فرمایا کہ نماز جمعہ ہوگی اور پھر کمرے میں تشریف لے گئے۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو ایک تار پہنچا کہ کوئی جگہ خالی ہے جو جی کی پیش خیمہ ہے۔حضور کے عرض کیا حضور نے فوراً درخواست کرنے کو فرمایا چنانچہ بذریعہ تار ہی درخواست بھیج دی گئی۔اللہ کریم ایسے سامان کرے کہ وہ آسامی چوہدری صاحب کو مل جائے اور بابرکت بھی ہو۔حضور اپنے کمرے میں تھے۔میں نے بائیں خیال کہ اب سفر کے آخری ایام ہیں سمندری سفر ختم ہونے والا ہے آج جمعہ کا دن بھی ہے اور احباب اور بزرگوں نے کثرت سے دعاؤں کی یاد دہانی کے لئے خطوط بھی بھیجے ہیں گو ان کے جواب دینے کا ہمیں سمندری سفر کی وجہ سے موقع نہیں مگر احکام کی تعمیل تو کر دی جا سکتی ہے۔لہذا میں نے ایک مفصل عرضداشت لکھی اور خاص احباب کے نام بھی لکھے۔جماعتوں کو بھی شامل کیا اور جہاں تک ہو سکا کسی کو نہ چھوڑا البتہ جن دوستوں کے خطوط خاص طور پر آئے تھے ان کے نام خاص ہی رنگ میں پیش کئے گئے۔ان کے علاوہ بھی اکثر احباب کے نام شامل کر لئے گئے۔میں نے عریضہ لکھ کر تیار کیا۔ڈاکٹر صاحب نے اذان کہی اور اطلاع کے لئے جاتے تھے۔میں نے عرض کیا کہ میرا بھی ایک کام کرتے جائیں۔عریضہ دیا کہ حضرت کے ہاتھ میں اسی طرح کھلم کھلا پیش کر دیں۔ان کو راستہ میں ایک تار بھی ملا وہ بھی ساتھ لے گئے۔حضور نے تارکھولا پڑھا اور خوش ہوئے اور ساتھ ہی توجہ دعا کی طرف منتقل ہوئی۔دعاؤں کی یاد دہانی کا عریضہ ساتھ ہی تھا وہ بھی حضور نے لے لیا۔ڈاکٹر صاحب دوڑے ہوئے اور خوش آئے اور مجھے مبارک باد دے کر کہا کہ بہت ہی خاص وقت میں اور نیک ساعت میں آپ کا رقعہ دیا گیا ہے اور پھر سنایا کہ بچہ کی پیدائش کی تارا بھی ابھی مفتی صاحب کی طرف سے پہنچی ہے۔یہ سن کر ہم بھی دوڑے اور بغیر کوٹ ننگے پاؤں ننگے ہی سر حضور کے کمرے میں پہنچ کر مبارک باد پیش کی۔میں نے دیکھا کہ حضور میرے عریضہ کو لے کر پڑھ رہے تھے اور ایک ایک نام کو حضور نے توجہ سے پڑھا اور دعائیں کیں۔فلهذا فطوبى لكم ايها